پلاسٹک شاپنگ بیگز پر سخت پابندیاں ناگزیر ،شہری پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت کی کوششوں کے ساتھ تعاون کریں، عمران صابر

سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) نے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر سخت پابندیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شہریوں سے دوبارہ استعمال ہونے والے متبادل بیگز اپنانے کی اپیل کی ہے تاکہ پلاسٹک آلودگی اور سمندری ماحول کو لاحق خطرات میں کمی لائی جا سکے۔

اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) کے ڈائریکٹر عمران صابر نے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر سخت پابندیاں لگانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندیا ناگزیر ہیں شہری دوبارہ استعمال ہونے والے متبادل بیگ استعمال کریں اور پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت کی کوششوں کے ساتھ تعاون کریں،پاکستان میں سالانہ 60 ارب سے زائد پلاسٹک بیگز کا استعمال سمندری ماحول کے لئے باعث تشویش ہے ۔

ایک مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ سے بات کرتے ہوئے سیپا ڈائریکٹر عمران صابر نے کہا کہ سندھ اور پنجاب پلاسٹک آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں، جن میں پلاسٹک بیگز کے ہول سیلرز کے خلاف کارروائی اور تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آگاہی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً پانچ ٹریلین پلاسٹک بیگز استعمال ہوتے ہیں۔ مختصر استعمال کے بعد ان پلاسٹک بیگز کو گلنے کے لئے سینکڑوں سال درکار ہوں گے ، جو زمین، دریاؤں اور سمندروں کو طویل مدتی آلودگی کا شکار بناتے ہیں اور جنگلی حیات اور سمندری ماحولیاتی نظام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ سیپا کے ڈائریکٹر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پلاسٹک کے کوڑے کو کم کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کے ساتھ تعاون کریں اور دوبارہ استعمال ہونے والے اور ماحول دوست متبادل کو زیادہ سے زیادہ اپنائیں۔ انہوں نے شہریوں، کاروباری اداروں پر زور دیا کہ اس عمل کے لئے اجتماعی کوششیں ماحول اور عوامی صحت کو بڑھتی ہوئی پلاسٹک آلودگی سے بچانے کے لیے ناگزیر ہیں ۔ پلاسٹک بیگز کے متبادل کے طور پر برانڈز کی طرف سے کپڑے کے بیگز متعارف کرانے اور شاپنگ کے بعد صارفین سے اضافی 30 سے 40 روپے وصول کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈائریکٹر عمران صابر نے کہا کہ دوبارہ استعمال ہونے والے بیگز کو فروغ دینا پلاسٹک کے کوڑے کو کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم انہوں نے صارفین پر اضافی چارجز عائد کرنے کی حوصلہ شکنی کی اور شاپنگ مالز اور برانڈز پر زور دیا کہ وہ ماحول دوست طریقوں کو اپنائیں ۔ انہوں نے تاکید کی کہ کاروباری اداروں اور صارفین کو مل کر پائیدار حل کو فروغ دینا چاہیے اور پلاسٹک آلودگی کو کم کرنا چاہیے۔ پلاسٹک بیگز پر پابندی کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں صابر نے کہا کہ بہت سے صنعتی مالکان نے قانونی فورمز سے رجوع کیا اور کئی دہائیوں سے چلنے والے کاروبار بند کرنے کے بارے میں تحفظات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور صنعتوں کو ماحول دوست متبادل کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں نے بھی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو متبادل حل تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے اور تمام فریقین مل کر کام کر رہے ہیں جبکہ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے پلاسٹک بیگز سے عملی منتقلی کے لیے تجاویز طلب کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پلاسٹک کا کوڑا زمین اور پانی کو آلودہ کر سکتا ہے، انسانی صحت کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے اور سمندری جانوروں کے مسکن اور فوڈ چین کو نقصان پہنچا کر انہیں خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ سیپا ڈائریکٹر نے میڈیا آؤٹ لیٹس پر زور دیا کہ وہ آگاہی پروگراموں کو فروغ دینے اور عوام کو پلاسٹک آلودگی کے نقصانات سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے عوامی تعاون کی اپیل کی اور کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پائیدار متبادل اپنائیں، بشمول کپڑے کے بیگز اور دیگر ماحول دوست آپشنز، تاکہ پلاسٹک بیگز پر انحصار کم کیا جا سکے۔