پنجاب بھر میں عوامی امن، سکون و جان و مال کو لاحق خطرات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ

محکمہ داخلہ پنجاب نے عوامی امن، سکون اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

لاہور۔25ستمبر (اے پی پی):محکمہ داخلہ پنجاب نے عوامی امن، سکون اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفیکیشن کے مطابق عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر5 یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھ پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی ہو گی۔ غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کیلئے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہو گا۔ عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنی ٰہوں گی جبکہ ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہو گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے فوری نوعیت کے خطرات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں جس کے باعث اجتماعات، ریلیاں، جلسے، دھرنے، جلوس اور مظاہرے دہشت گرد حملوں کا ممکنہ آسان ہدف بن سکتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے فوری حفاظتی اقدامات میں معاونت کی درخواست کی ہے۔ اسی تناظر میں سیکرٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت عوامی اجتماعات پر فوری پابندی عائد کی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے فوری نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

مزید خبریں