ملتان ۔ 31 دسمبر (اے پی پی):بورڈ آف ریونیو پنجاب نے صوبہ بھر میں زمین کے انتقالات کے نظام کو شفاف، قانونی اور مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے زبانی لین دین کی بنیاد پر انتقالات کے اندراج اور منظوری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، …
پنجاب میں زبانی لین دین پراراضی کے انتقالات کے اندراج اور منظوری پر پابندی عائد

مزید خبریں
ملتان ۔ 31 دسمبر (اے پی پی):بورڈ آف ریونیو پنجاب نے صوبہ بھر میں زمین کے انتقالات کے نظام کو شفاف، قانونی اور مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے زبانی لین دین کی بنیاد پر انتقالات کے اندراج اور منظوری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت وراثت کے علاوہ کسی بھی قسم کے زبانی دعوے یا غیر تحریری لین دین پر انتقال منظور نہیں کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ زمین کی خرید و فروخت، ہبہ، رہن، تبادلہ اور دیگر تمام اقسام کے لین دین کے لیے رجسٹرڈ اور قانونی دستاویزات کا ہونا لازم ہوگا۔ بغیر رجسٹری کسی بھی قسم کا انتقال ناقابلِ قبول تصور کیا جائے گا۔ تاہم وراثتی انتقالات بدستور موجودہ قوانین، قواعد و ضوابط اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق منظور ہوتے رہیں گے تاکہ شہریوں کو قانونی وراثتی حقوق کے حصول میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے بورڈ آف ریونیو پنجاب کے فیصلے کی روشنی میں تمام ریونیو افسران کو احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نوٹیفکیشن پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ زبانی لین دین پر پابندی کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہے اور کسی بھی سطح پر کوتاہی یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔کمشنر ملتان آفس کی جانب سے اس سلسلے میں تمام ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداروں اور دیگر متعلقہ ریونیو افسران کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے، جس میں نوٹیفکیشن پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کے احکامات دیے گئے ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی افسر کی جانب سے احکامات کی خلاف ورزی سامنے آئی تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کمشنر عامر کریم خاں کا کہنا تھا کہ انتقالات کے نظام میں شفافیت اور قانونی عملداری کو یقینی بنانا حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبانی لین دین کے باعث ماضی میں قبضہ مافیا، جعلسازی، جعلی انتقالات اور فراڈ کے متعدد واقعات سامنے آئے، جن کی روک تھام کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور زمین کے ریکارڈ کو محفوظ، مستند اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے گا۔








