سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا ہے کہ پنجاب میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گندم اس وقت 3700 سے 4000 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں گندم کی قیمت 4700 روپے فی 40 کلوگرام سے زائد ہے۔ کراچی میں بھی گندم کی قیمتیں …
پنجاب میں عام آٹا 99 سے 110 روپے فی کلوگرام کے درمیان دستیاب ہے، کرن خورشید

مزید خبریں
لاہور۔8جون (اے پی پی):سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا ہے کہ پنجاب میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گندم اس وقت 3700 سے 4000 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں گندم کی قیمت 4700 روپے فی 40 کلوگرام سے زائد ہے۔ کراچی میں بھی گندم کی قیمتیں خیبرپختونخوا کے برابر یا اس کے قریب ہیں۔ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ پنجاب میں عام آٹا 99 سے 110 روپے فی کلوگرام کے درمیان دستیاب ہے جبکہ 5 کلوگرام پیکنگ میں فورٹیفائیڈ آٹے کی قیمت تقریبا 160 روپے فی کلوگرام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب حکومت 3000 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے سبسڈی شدہ گندم فراہم کر رہی تھی، اس وقت آٹے کی قیمت 91 روپے فی کلوگرام تھی۔ گندم کی موجودہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود آٹے کی قیمت میں صرف 8 سے 19 روپے فی کلوگرام اضافہ ہوا ہے۔
سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن نے کہا کہ پنجاب میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ کاشتکاروں کو بہتر معاوضہ فراہم کرنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پری کوالیفائیڈ ایگریگیٹرز کسانوں سے 3500 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے گندم خرید رہے ہیں اور کاشتکاروں کی معاونت کے لیے خریداری کا عمل مسلسل جاری ہے۔ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ پنجاب میں آٹے کی قیمتیں ملک کے کئی دیگر علاقوں کے مقابلے میں اب بھی نسبتا کم سطح پر ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ گندم کے کاشتکاروں کے تحفظ اور صارفین کے مفاد میں اختیار کی گئی متوازن پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس سے ایک طرف کسانوں کو بہتر معاوضہ مل رہا ہے اور دوسری جانب عوام کو مناسب قیمت پر آٹا دستیاب ہے۔








