پنجاب میں مستقبل کے سیلابی نقصانات سے بچاؤ کے لیے 119 حفاظتی ڈھانچوں کی تعمیر و بحالی مکمل

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سیلاب سے ہونے والے ممکنہ نقصانات میں کمی اور حساس آبادیوں کے تحفظ کے لیے صوبے بھر میں 119 سیلابی حفاظتی ڈھانچوں کی تعمیر و بحالی مکمل کر لی ہے، جبکہ 394 کلومیٹر طویل حفاظتی پشتوں کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔

اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مستقبل میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اور حساس آبادیوں کے تحفظ کے لیے صوبے میں 119 سیلابی حفاظتی ڈھانچوں کی تعمیر و بحالی مکمل کر لی ہے جبکہ 394 کلومیٹر طویل حفاظتی پشتوں کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔

ویلتھ پاکستان کودستیاب دستاویزات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے 12 کروڑ 45 لاکھ ڈالر مالیت کے فلڈ ایمرجنسی ریکنسٹرکشن اینڈ ریزیلینس پروجیکٹ کا آغاز شدید سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بعد تعمیر نو کے لیے کیا گیا تھا۔منصوبے کے تحت سڑکوں، پلوں، سیلابی حفاظتی ڈھانچوں، حفاظتی پشتوں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کی بحالی اور بہتری پر توجہ دی گئی۔دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت حساس سیلابی حفاظتی ڈھانچوں میں شیٹ پائلنگ ٹیکنالوجی کا استعمال تھا، جس سے ان کی متوقع عمر تقریباً 25 سال سے بڑھ کر 150 سال ہو گئی۔ اس جدید ٹیکنالوجی سے ڈھانچے زیادہ مضبوط اور پائیدار بنے ہیں، جبکہ مستقبل میں دیکھ بھال کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔منصوبے کے تحت صوبے کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں بھی بڑے پیمانے پر بہتری لائی گئی، جس سے رابطہ کاری اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔اس دوران تقریباً 2,587 کلومیٹر صوبائی شاہراہوں اور ضلعی سڑکوں کی تعمیر نو اور بحالی کی گئی، جو مقررہ 1,740 کلومیٹر کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔اسی طرح 261.6 کلومیٹر طویل سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کثیر النوع قدرتی آفات سے محفوظ رہنے کے معیار کے مطابق کی گئی، جن میں خواتین، بچوں، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کی حفاظت کو بھی مدنظر رکھا گیا۔آفات سے نمٹنے کی استعداد بڑھانے کے لیے پی ڈی ایم اے میں جدید سرورز، جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس)، خطرات کی نقشہ سازی کے آلات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایپلی کیشنز سے لیس ڈیٹا مینجمنٹ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی قائم کیا گیا۔اس کے علاوہ پنجاب کے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی میں ڈیٹا کلیئرنگ ہاؤس قائم کیا گیا، جس کا مقصد مختلف سرکاری اداروں کے درمیان جغرافیائی اور آفات سے متعلق معلومات کا تبادلہ اور یکجا کرنا ہے۔منصوبے کے تحت صوبے کے 20 اضلاع میں کثیر النوع قدرتی آفات سے متعلق خطرات اور کمزوریوں کا جائزہ بھی لیا گیا، جس میں تقریباً 18 لاکھ گھرانوں کا احاطہ کیا گیا ۔دستاویزات کے مطابق اس منصوبے نے پنجاب میں صرف تعمیر نو تک محدود رہنے کے بجائے مستقبل کے سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے مقابلے کے لیے زیادہ مضبوط، محفوظ اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔