اسلام آباد ۔02 ستمبر (اے پی پی) پنجاب میں کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں16فیصد کی کمی کے باعث رواں سال روئی کی ملکی درآمدات1.3 ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن( اپٹما) کی کاٹن کمیٹی کے سربراہ سیٹھ اکبر نے کہا ہے کہ سپننگ انڈسٹری روئی کی ہر ایک گانٹھ کے استعمال پر50 روپے کا کاٹن سیس ادا کرتی ہے اور ہر سال صنعت کی …
پنجاب میں کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں16فیصد کی کمی کے باعث رواں سال روئی کی ملکی درآمدات1.3 ارب ڈالر تک اضافہ ممکن

مزید خبریں
اسلام آباد ۔02 ستمبر (اے پی پی) پنجاب میں کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں16فیصد کی کمی کے باعث رواں سال روئی کی ملکی درآمدات1.3 ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن( اپٹما) کی کاٹن کمیٹی کے سربراہ سیٹھ اکبر نے کہا ہے کہ سپننگ انڈسٹری روئی کی ہر ایک گانٹھ کے استعمال پر50 روپے کا کاٹن سیس ادا کرتی ہے اور ہر سال صنعت کی جانب سے تقریباً700 ملین روپے کی ادائیگی کی جاتی ہے اس رقم کو تحقیقی مقاصد کی بجائے انتظامی امور کے اخراجات کو پورا کرنے کےلئے خرچ کردیا جاتا ہے جس سے ملک میں کپاس کی پیداوار کے فروغ کا عمل متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ پیداوارکے حامل اور بیماریوں کے خلاف بھرپورمزاحمت رکھنے والے بیجوں کی فراہمی کے مسائل سے بھی کپاس کی ملکی پیداوارمیں کمی ہورہی ہے جبکہ کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں ہونے والی کمی بھی پیداوار کو کرنے کے اسباب میں شامل ہے








