:پنجاب کے مالی سال2026-27 کا بجٹ منگل کے روز صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کیا۔ بجٹ میں محکمہ ترقی خواتین کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مخصوص کیے گئے ہیں
پنجاب کے مالی سال2026-27 کا بجٹ، محکمہ ترقی خواتین کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز مختص

مزید خبریں
لاہور۔16جون (اے پی پی):پنجاب کے مالی سال2026-27 کا بجٹ منگل کے روز صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کیا۔ بجٹ میں محکمہ ترقی خواتین کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مخصوص کیے گئے ہیں۔مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہاکہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کاوژن ہے کہ خواتین کی ترقی کا مطلب صرف معاشی خود مختاری نہیں بلکہ ایک پورے قبیلے کی ترقی ہے،جب خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور فیصلہ سازی میں یکساں مواقع ملتے ہیں تو پورا گھر ، معاشرہ اور پورا صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال میں خواتین کی فلاح و ترقی کیلئے مجموعی حکومتی اخراجات کا حجم 80 ارب روپے ہوگا جبکہ1 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب بھر میں خواتین کو با اختیار اور با روزگار بنانے کیلئے آئی ٹی ٹریننگ دی گئی جس سے 2400 خواتین مستفید ہوئیں ،اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال میں 15 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔اسی طرح قانونی شعبے میں خواتین کی موثر شمولیت کو فروغ دینے اور انہیں بہتر پیشہ ورانہ سہولیات کی فراہمی کیلئے پنجاب بھرمیں 1.4 ارب روپے کی لاگت سے خواتین بار رومز کی تعمیر کا آغاز کیا گیا، یہ اقدام خواتین وکلا کیلئے محفوظ، باوقار اور سازگار پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
اس منصوبے کی تکمیل کیلئے مالی سال 2026-27 میں 332 ملین روپے مختص کئے جارہے ہیں جس سے تقریبا 2 لاکھ افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ ”SEHR ”منصوبہ کے تحت 97 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے خواتین اور نوجوانوں کو موجودہ روزگار کے تقاضوں کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی ، جس سے اب تک 5365 افراد مستفید ہو چکے ہیں،اسی تسلسل میں ، خواتین کی معاشی خود مختاری اور با اختیار بنانے کے لیے2 ارب 35 کروڑ روپے آئندہ مالی سال کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح جنوبی پنجاب میں دیہی خواتین کو لائیو سٹاک کی منتقلی کے تحت 2 ارب روپے کی لاگت سے 4385 دیہی خواتین کولائیو اسٹاک اثاثے فراہم کیے گئے تا کہ انہیں معاشی خود مختاری اور پائیدار ذریعہ معاش میسر ہو سکے ۔ اس منصوبے کیلئے آئندہ مالی سال 27-2026 میں 1 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ ڈی جی خان میں خواتین یونیورسٹی بھی قائم کی جارہی ہے جس کی لاگت کا تخمینہ تقریبا 55 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔








