پولینڈ نے غزہ میں امدادی کارکن کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا

وارسا۔5اپریل (اے پی پی):پولینڈ نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کارروائی کے دوران پولینڈ کے امدادی کارکن کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی سفیر یاکوو لیونی کو طلب کر لیا۔ روسی خبر رساں ادارے رشیا ٹوڈے کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کو غزہ میں امدادی قافلے پر مسلسل 3فضائی حملے کئے جس سے پولینڈ کے امدادی کارکن دامیان سوبول سمیت امدادی تنظیم ورلڈ سینٹرل کچن (ڈبلیو سی کے)کے …

وارسا۔5اپریل (اے پی پی):پولینڈ نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کارروائی کے دوران پولینڈ کے امدادی کارکن کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی سفیر یاکوو لیونی کو طلب کر لیا۔ روسی خبر رساں ادارے رشیا ٹوڈے کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کو غزہ میں امدادی قافلے پر مسلسل 3فضائی حملے کئے جس سے پولینڈ کے امدادی کارکن دامیان سوبول سمیت امدادی تنظیم ورلڈ سینٹرل کچن (ڈبلیو سی کے)کے 7کارکن ہلاک ہو گئے۔

پولینڈ کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی نے گزشتہ روز اپنے اسرائیلی ہم منصب اسرائیل کاٹز سے فون پر بات کی اور حملے کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر )پر کہا کہ اگر اسرائیل نے جان بوجھ کر امدادی قافلے پر حملہ کیا تو متاثرین کے اہل خانہ معافی اور معاوضے کے مستحق ہیں۔

اسرائیلی سفیر نے ایک یوٹیوب چینل سے بات کرتے ہوئے اصرار کیا کہ امدادی کارکنوں کی ہلاکت جنگی جرم نہیں بلکہ ایک المیہ ہے اور یہ کہ اسرائیلی فوج کبھی بھی امدادی گروپوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بناتی۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے گزشتہ روز کہا کہ اسرائیلی سفیر کو پولش میڈیا سے بات کرنے اور معافی مانگنی چاہیئے تھی ۔

پولینڈ کے صدر اندریز ڈوڈا نے بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کو پولینڈ کے شہری کے خاندان کو معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔

 

مزید خبریں