ملک بھر کے 97 منتخب اضلاع میں جاری ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کے پہلے پانچ روز کے دوران 2 کروڑ 34 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا دیے گئے۔نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق مہم کا چھٹا روز جاری ہے جبکہ ویکسینیشن کی سرگرمیاں 8 نومبر تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔ ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر …
پولیو مہم کے پہلے پانچ روز 2 کروڑ 34 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):ملک بھر کے 97 منتخب اضلاع میں جاری ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کے پہلے پانچ روز کے دوران 2 کروڑ 34 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا دیے گئے۔نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق مہم کا چھٹا روز جاری ہے جبکہ ویکسینیشن کی سرگرمیاں 8 نومبر تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔ ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہےجس کے لیے 2 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔
این ای او سی کے مطابق پولیو وائرس کےپھیلاؤ کی روک تھام اور بچوں کے تحفظ کے لیے بیک وقت مہم چلائی جا رہی ہے جو علاقائی سطح پر مربوط کوششوں کا حصہ ہے۔صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 13 منتخب اضلاع میں 90 لاکھ 25 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے جبکہ سندھ کے 20 منتخب اضلاع میں 68 لاکھ 56 ہزار سے زائد بچوں کی ویکسینیشن کی گئی۔اسی طرح خیبر پختونخوا کے 27 منتخب اضلاع میں 46 لاکھ 24 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے جبکہ بلوچستان کے 31 منتخب اضلاع میں 21 لاکھ 69 ہزار بچوں کی ویکسینیشن مکمل کی گئی۔
اسلام آباد میں 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کےقطرے پلائے گئےجبکہ گلگت بلتستان کے تین منتخب اضلاع میں ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد بچوں کی ویکسینیشن کی گئی۔ آزاد جموں و کشمیر کے دو منتخب اضلاع میں مہم کے پہلے پانچ روز کے دوران تقریباً ایک لاکھ 92 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔این ای او سی نے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں پولیو وائرس کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے اور اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔
ادارے نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد پر زور دیا ہے کہ وہ پولیو ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو جاری مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔والدین کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا معمول کا شیڈول بروقت مکمل کروائیں تاکہ انہیں ویکسین سے بچاؤ کے قابل دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔این ای او سی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے مسلسل ویکسینیشن، عوامی شمولیت اور کمیونٹی کا تعاون ناگزیر ہے۔







