پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ، تمام پالیسی فیصلوں میں اسی کو مدنظر رکھا جائے گا،وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے وزیر اعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب نے کہاہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ، تمام پالیسی فیصلوں میں اسی کو مدنظر رکھا جائے گا،قومی توانائی سلامتی کے تحفظ اور مقامی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے بروقت اور مربوط اقدامات کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے تناظر …

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب نے کہاہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ، تمام پالیسی فیصلوں میں اسی کو مدنظر رکھا جائے گا،قومی توانائی سلامتی کے تحفظ اور مقامی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے بروقت اور مربوط اقدامات کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے وزیر اعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں توانائی کی علاقائی اور عالمی بدلتی ہوئی صورتحال پر غور کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی چین کا تفصیلی جائزہ لیا۔ شرکاء کو خام تیل اور ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات بشمول پٹرول، ڈیزل، ہوابازی کے ایندھن اور ایل پی جی کے ملکی ذخائر، ان کی دستیابی کے دنوں اور یومیہ کھپت کے رجحانات سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء کو عالمی تیل منڈی کی پیشرفت سے بھی آگاہ کیاگیا جس میں بین الاقوامی بنچ مارک قیمتوں میں ردوبدل، فریٹ اور انشورنس اخراجات، بحری راستوں کی صورتحال اور اہم سمندری گزرگاہوں کے بدلتے حالات شامل تھے۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ بالخصوص آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور اس کے توانائی کے عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات کے پیشِ نظربین الاقوامی توانائی کا ماحول بدستور غیر یقینی ہے۔ شرکاء نے ایل این جی اور ایل پی جی کی منڈیوں میں ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کی درآمدات پاکستان کے توانائی مکس کا اہم جزو ہیں تاہم علاقائی بحری راستوں میں رکاوٹیں عالمی ایل این جی لاجسٹکس کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سرحد پار ذرائع سے ایل پی جی کی آمد پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ملک میں بلاتعطل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

کمیٹی نے رسدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لئے مختلف ہنگامی اقدامات پر غور کیا جن میں بین الاقوامی شراکت داروں سے رابطہ اور متبادل سپلائی ذرائع کی تلاش شامل ہے۔ اس ضمن میں اراکین کو آگاہ کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر اضافی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لئے خطے کے دوست ممالک اور سپلائرز کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر روابط جاری ہیں۔کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ توانائی کے حصول کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لئے علاقائی انرجی حبز کے ذریعے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے جن میں بحیرہ احمر اور خلیجی خطے کی بندرگاہوں کے ذریعے ممکنہ انتظامات شامل ہیں تاکہ ریفائنری آپریشنز کا تسلسل برقرار رہے اور سپلائی کا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔اراکین نے وسیع تر ہنگامی منصوبہ بندی کے تحت توانائی کے تحفظ اور بچت کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جس کا مقصد طلب کا مؤثر انتظام کرتے ہوئے منڈیوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے۔

کمیٹی نے زور دیا کہ اگرچہ اس وقت سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے تاہم اگر بین الاقوامی غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے توہر سطح پر محتاط توانائی استعمال اور بچت قومی تیاری کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام پالیسی فیصلوں میں اسی کو مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت کی نگرانی کر رہی ہے اور قومی توانائی سلامتی کے تحفظ اور مقامی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے بروقت اور مربوط اقدامات کے لئے تیار ہے۔کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بالخصوص بین الاقوامی اتار چڑھاؤ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی، رخ موڑنے یا سمگلنگ کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کڑی نگرانی برقرار رکھیں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ و ہم آہنگی کو مزید مضبوط کریں تاکہ ملکی سپلائی محفوظ رہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کل ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے تاکہ حتمی سمری اور مجوزہ قومی ایکشن پلان پر غور کیا جا سکے۔ کمیٹی اپنی مشاورت جاری رکھے گی تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے قومی سطح پر نافذ کئے جانے کے لئے ایک جامع حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیرقومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیرتوانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وفاقی سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔