پیشگی منظوری کے بغیر شروع کیے گئےپوسٹ گریجویٹ میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز کو تسلیم نہیں کیا جائے گا،پی ایم ڈی سی

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)نے غیر منظور شدہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ ایسے کسی بھی پروگرام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جو کونسل کی پیشگی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا

اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)نے غیر منظور شدہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ ایسے کسی بھی پروگرام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جو کونسل کی پیشگی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا ہو۔پی ایم ڈی سی کے مطابق ملک میں طبی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ادارے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کے اجرا سے قبل کونسل کے مقررہ طریقہ کار کے تحت باقاعدہ اجازت حاصل کریں۔

پی ایم ڈی سی کے حکام نے کہا ہے کہ بغیر منظوری کے جاری کیے جانے والے پروگرامز اور ان کے تحت حاصل کی گئی ڈگریوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پی ایم ڈی سی ایکٹ ۔ 2022 کے تحت کسی بھی ادارے کی جانب سے بغیر اجازت میڈیکل یا ڈینٹل پوسٹ گریجویٹ پروگرام شروع کرنا خلاف ضابطہ ہے۔

اس ضمن میں بعض جامعات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو قواعد کے برعکس پروگرامز چلا رہی تھیں۔پی ایم ڈی سی نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف ان اداروں میں داخلہ لیں جو کونسل سے منظور شدہ ہوں، بصورت دیگر ان کی پیشہ ورانہ رجسٹریشن اور کیریئر متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر منظور شدہ پروگرامز میں تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کو مستقبل میں رجسٹریشن یا دیگر پیشہ ورانہ امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں طبی تعلیم کے نظام کو منظم بنانا، غیر معیاری ڈگریوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور صحت کے شعبے میں پیشہ ورانہ معیار کو یقینی بنانا ہے۔ کونسل نے تمام تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کریں اور کسی بھی پروگرام کے آغاز سے قبل ضروری منظوری حاصل کریں۔