اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پی ای ایف) کے چیئرپرسن ملک شعیب اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت چولستان سے لے کر پنجاب کے ہر ضلع تک پسماندہ بچوں کو ڈیجیٹل حاضری کے ساتھ مفت، مساوی اور معیاری تعلیم دی جائے گی، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ لوگ جو پرائیویٹ سکولنگ کے متحمل نہیں ہیں …
چولستان سے لے کر پنجاب کے ہر ضلع تک غریب بچوں کو مفت ،مساوی اور معیاری تعلیم دی جائے گی، چیئرپرسن پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن

مزید خبریں
اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پی ای ایف) کے چیئرپرسن ملک شعیب اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت چولستان سے لے کر پنجاب کے ہر ضلع تک پسماندہ بچوں کو ڈیجیٹل حاضری کے ساتھ مفت، مساوی اور معیاری تعلیم دی جائے گی، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ لوگ جو پرائیویٹ سکولنگ کے متحمل نہیں ہیں انہیں معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔
ملک شعیب اعوان نے اتوار کو پی ٹی وی نیوز سے خصوصی انٹرویو کے دوران کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن وزیراعلیٰ پنجاب کے تعلیم تک مساوی رسائی کے وژن کے تحت نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فاؤنڈیشن کا کام اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے کہ پسماندہ پس منظر کے بچے صوبے بھر میں نجی شعبے کے اداروں کے ساتھ شراکت کے ذریعے جدید، مفت تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ای ایف بین الاقوامی سطح کی مفت اور معیاری تعلیم کا نظام متعارف کروا کر اور اپ گریڈ شدہ انفراسٹرکچر، واؤچر سکیموں، نئے سکولوں، ڈیجیٹل حاضری کے نظام اور پیشہ ورانہ تربیت کے حامل اساتذہ کے ساتھ سیکھنے کے ماحول کو بہتر بنا کر تعلیمی نظام کو تبدیل کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی اور پیشہ ورانہ پروگراموں کو بھی وسعت دی جارہی ہے تاکہ وہ طلباء جو پرائیویٹ اسکولنگ کے متحمل نہیں ہوتے وہ اب اپنے زیادہ مراعات یافتہ ساتھیوں کے مقابلے کے معیار پر تعلیم حاصل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کو دو مرحلوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں کمزور کارکردگی اور اساتذہ کی کمی والے سکولوں کو 10,000 سے زائد اسکولوں کی طویل مدتی لیز کے ذریعے براہ راست پی ای ایف مینجمنٹ کے تحت لیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ای ایف کے کنٹرول کے تحت ان اداروں کو سخت ، کیمرہ پر مبنی نگرانی اور معیار کو بڑھانے کے لیے بہتر چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ مضبوط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 60,000 سے 80,000 نئے کوالیفائیڈ اور اچھے اخلاق کے حامل اساتذہ کی تقرری کی گئی اور اس کے نتیجے میں سکولوں میں اندراج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تقریباً 2 لاکھ طلباء کے ابتدائی اعداد و شمار کے بعد اب توسیعی پروگرام کے تحت کل اندراج5 لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام میں طلباء کی شرکت کو قریب سے ٹریک کرنے، جوابدہی کو یقینی بنانے اور تمام پارٹنر سکولوں میں سیکھنے کی پیش رفت کی بہتر نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹلائزڈ حاضری کا نظام بھی شامل ہے۔ ملک شعیب اعوان نے روشنی ڈالی کہ چولستان میں پہلی بار، دور دراز اور خانہ بدوش کمیونٹیز کے بچوں کی براہ راست تعلیم کے لیے موبائل سکولوں کا آغاز کیا گیا ہے، جس سے ان لوگوں کے لیے سیکھنے تک رسائی کو مزید وسیع کیا گیا ہے جن کو قبل ازیں نظر انداز کیا جاتا رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اختراعات وزیراعلیٰ کے وژن کے تحت فاؤنڈیشن کی رسائی کو مضبوط بنانے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہیں جس کے تحت ٹیکنالوجی اور زمینی سطح کے اقدامات کو یکجا کر کے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ہر بچہ، چاہے اس کا مقام کچھ بھی ہو، معیاری اسکولنگ کے مواقع سے مستفید ہو۔
انہوں نے فاؤنڈیشن کی واؤچر سکیموں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے خاندانوں کے بچے جو پرائیویٹ سکول کی فیس برداشت نہیں کر سکتے اب معیاری تعلیم مفت حاصل کر سکیں گے، چاہے وہ رکشہ چلانے والے کے گھر سے ہوں یا کچی آبادی والے علاقے سے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایجوکیشن واؤچر سکیم کے تحت، غریب کمیونٹیز کے اہل بچوں کو واؤچرز ملتے ہیں جو انہیں فیس ادا کیے بغیر پارٹنر سکولوں میں داخلہ لینے کی اجازت دیتے ہیں، جس سے پسماندہ افراد کے لیے سیکھنے کے مواقع تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نقطہ نظر نے پرائیویٹ اسکولوں میں طلباء کے والدین کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں پی ای ایف پارٹنر اسکولوں کو ترجیح دیں کیونکہ اس کے فوائد اور بہتر معیارات ہیں، جس کی کامیابی کا سہرا وزیر اعلیٰ کے سب کے لیے مساوی تعلیم کے وژن کے سر ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سکولوں کے اچانک دورے اور نئے سکولوں کا قیام، ساتھ ساتھ باصلاحیت پسماندہ طلباء کے لیے خصوصی مواقع جیسے کیڈٹ کالج حسن ابدال میں سپانسر شدہ تربیت، سب کے لیے جامع، معیاری تعلیم کے وزیر اعلیٰ کے وژن کی عکاسی کرتی ہے۔








