چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین کو علاج کے دوران جذباتی، سماجی اور خاندانی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے،صدر آصف علی زرداری کا چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے عالمی دن پر پیغام

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین کو علاج کے دوران جذباتی، سماجی اور خاندانی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے، خواتین کو اپنی صحت کو ترجیح دینے اور بیماری سے متعلق خدشات پر بلا جھجھک طبی مشورہ لینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔انہوں نے یہ بات چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 19 …

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین کو علاج کے دوران جذباتی، سماجی اور خاندانی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے، خواتین کو اپنی صحت کو ترجیح دینے اور بیماری سے متعلق خدشات پر بلا جھجھک طبی مشورہ لینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔انہوں نے یہ بات چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 19 اکتوبر کو منایا جا رہا ہے۔

صدر مملکت نے اس مرض سے متاثرہ تمام افراد بالخصوص خواتین، ان کے اہل خانہ، دیکھ بھال کرنے والوں اور معاونت فراہم کرنے والے طبی ماہرین کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چھاتی کا سرطان ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ ماؤں، بیٹیوں، بہنوں اور شریک حیات سمیت خاندانوں کو جذباتی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے بیماری سے متعلق وسیع تر آگاہی، بروقت طبی توجہ اور متاثرہ افراد کی معاونت ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن خواتین کو اپنی صحت پر توجہ دینے اور جسم میں کسی تبدیلی یا تشویش کی صورت میں فوری مناسب طبی مشورہ حاصل کرنے کی اہمیت یاد دلانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آگاہی میں اضافے سے خواتین اپنی صحت کے بارے میں بہتر اور باخبر فیصلے کر سکتی ہیں اور انہیں بروقت طبی ماہرین سے رجوع کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ خاندان اور معاشرے بھی اس حوالے سے اہم کردار کے حامل ہیں ۔ خواتین کو اپنی صحت سے متعلق خدشات کھل کر بیان کرنے اور بلا خوف و ہچکچاہٹ علاج حاصل کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہئے۔ اہل خانہ کی سمجھ بوجھ اور معاونت کینسر سے متعلق خوف، غلط معلومات اور خاموشی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کینسر کے خطرات پر اثرانداز ہونے والے عوامل سے متعلق وسیع تر آگاہی کو فروغ اور صحت مند طرز زندگی کی حوصلہ افزائی کرتے رہنا چاہیے۔تعلیمی ادارے، کام کاج کے مقامات، سماجی تنظیمیں، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور طبی ماہرین ملک بھر میں خواتین اور خاندانوں تک درست معلومات پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ بریسٹ کینسر میں مبتلا اور علاج مکمل کرنے والی خواتین کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہیں بیماری کے پورے سفر کے دوران درکار جذباتی، سماجی اور خاندانی معاونت حاصل رہنی چاہیے۔ اس مرض کے چیلنجز کا سامنا کرنے والی خواتین کی ہمت اور استقامت ہمارے احترام اور سمجھ بوجھ کی مستحق ہے۔انہوں نے بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی اور متاثرہ افراد کی معاونت کے لیے خدمات انجام دینے والے طبی ماہرین، رضاکاروں، مریضوں کی فلاحی تنظیموں، محققین اور سماجی کارکنوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات عوامی شعور اجاگر کرنے اور خواتین و ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے اہم ہیں۔

صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے دن ہمیں ایسے معاشرے کے قیام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے جہاں خواتین اپنی صحت کو ترجیح دیں، خاندان ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس مرض سے متاثرہ ہر فرد کو مطلوبہ نگہداشت اور معاونت میسر ہو۔

 

مزید خبریں