چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ای کچہری کا انعقاد،مستحقین کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کی زیرِ صدارت بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں جمعرات کو ای کچہری کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہیدبینظیر بھٹو کے نام سے منسوب ہے جو ایک دلیر، نڈر اور بہادر خاتون تھیں۔ انہوں نے ملک کے …

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کی زیرِ صدارت بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں جمعرات کو ای کچہری کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شہیدبینظیر بھٹو کے نام سے منسوب ہے جو ایک دلیر، نڈر اور بہادر خاتون تھیں۔ انہوں نے ملک کے غریب اور مستحق عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کی اور اسی مقصد کے حصول کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جرأت اور بہادری سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی ناانصافی اور زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے، لہٰذا اگر کسی بھی مرحلے پر آپ کی امدادی رقم سے ناجائز کٹوتی کی جائے، کسی سکیم کے نام پر اضافی رقم یا فیس کے نام پر پیسے مانگیں جائیں یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہو تو فوراً بی آئی ایس پی کے افسران و عملہ کو بتائیں۔انہوں نے کہا کہ مستحقین کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شکایات کی صورت میں بروقت اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ رقم مستحقین کا حق ہے، لہٰذا اپنی پوری رقم بلا کسی کٹوتی کے وصول کریں۔سینیٹر روبینہ خالد نے مزید کہا کہ بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت ضرورت مند افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں، بینظیر ہنرمند پورٹل کھلا ہے جس کے ذریعے مستحق گھرانے کا کوئی بھی فرد اپنی مرضی کی فنی تربیت (ٹریننگ) میں رجسٹریشن کرا سکتا ہے تاکہ باعزت روزگار کے مواقع حاصل کئے جا سکیں۔

ایک گھنٹے پر مشتمل ای کچہری سیشن کے دوران ملک بھر سے 27 کالرز نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سے براہِ راست رابطہ کیا اور اپنے مسائل پیش کئے۔ ای کچہری میں بی آئی ایس پی کے ڈائریکٹر جنرلز اور متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی تاکہ موصول ہونے والی عوامی شکایات کے فوری حل کو یقینی بنایا جا سکے۔