چیئر مین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور چینی عوام کی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے چیئرمین وانگ یانگ کے درمیان ورچوئل لنک کے ذریعے ملاقات

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):چیئر مین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور چینی عوام کی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے چیئرمین وانگ یانگ کے درمیان ورچوئل لنک کے ذریعے ملاقات ہوئی۔ چیئرمین سینیٹ کے ساتھ سینیٹرز کے وفد جن میں سینیٹرز سجاد حسین طوری، دلاور خان، مرزا محمد آفریدی، محمد علی خان سیف، مشاہد حسین سید اور منظور کاکڑ نے بھی اس آن لائن میٹنگ میں شرکت کی اور سیکرٹری سینیٹ محمد …

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):چیئر مین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور چینی عوام کی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے چیئرمین وانگ یانگ کے درمیان ورچوئل لنک کے ذریعے ملاقات ہوئی۔ چیئرمین سینیٹ کے ساتھ سینیٹرز کے وفد جن میں سینیٹرز سجاد حسین طوری، دلاور خان، مرزا محمد آفریدی، محمد علی خان سیف، مشاہد حسین سید اور منظور کاکڑ نے بھی اس آن لائن میٹنگ میں شرکت کی اور سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمد خان بھی شریک ہوئے۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، کورونا وبا کے بعد پارلیمانوں کے ابھرتے ہوئے نئے کردار، سی پیک اور بی آر آئی کی سطح پر تعاون اور پارلیمانی اداروں میں تعاون اور وفود کے تبادلوں میں تیزی لانے پر تبادلہ خیال ہوا۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ چین ہمارا قریبی دوست، شراکت دار اور بھائی ہے اور پاکستان اور چین وسیع البنیاد، طویل مدتی دوستی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ چند سالوں میں یہ دوستی سٹرٹیجک شراکت داری میں تبدیل ہو گئی ہے اور اعلیٰ سطح پر وفود کے تبادلوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ایک چائنا پالیسی اور موقف پر قائم ہے اور قومی مفاد کے انتہائی اہم امور پر پاکستان نے چین کے موقف کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کی حمایت اور مختلف امور پر نقطہ نظر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر چین نے بھارتی مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی جس پر ہم چین کے شکر گزار ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمانی سطح پر پاکستان اور چین کے درمیان مثالی تعاون پایا جاتا ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر ایک جیسا موقف رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور اب تک سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر چکا ہے۔کورونا وبا سے متعلق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ہر مشکل دور میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور چین نے وباء پر قابو پانے کیلئے مثالی اقدامات اٹھائے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کی۔انہوں نے کہا کہ چین نے وباء کے پھیلاؤ پر قابوپانے کیلئے پاکستان کا ساتھ دیا جس پر پاکستانی قوم، حکومت، پارلیمان اور عوام شکر گزار ہیں اور پاکستان نے ہیلتھ سلک روڈ کے تصور کی بھی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرونا وباء نے ہمارے لئے مشکلات پیدا کی ہیں لیکن ہمیں مل کر ان مشکلات پر قابو پانا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے چین کے صدر ژی چنگ پنگ کی قیادت میں کرونا وباء پر قابو پانے کیلئے اٹھائے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین بہت اہم اور پاکستان اور چین کے ماہرین آپس میں رابطہ میں ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کرونا وباء کے دوران چین کی جانب سے دی گئی امداد اور معاونت کیلئے چین کے ماہرین کی ٹیم کو پاکستان بھیجنے پر چین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ٹیم جس میں ڈاکٹرز اور صحت سے متعلق ماہرین شامل تھے نے پاکستانی ماہرین کو وباء پر قابو پانے کے سلسلے میں بہترین ماہرانہ رائے دی اور پاکستان کافی حد تک وباء پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے چین کے صدر کی جانب سے کرونا وباء پر قابو پانے کیلئے تیار کی جانے والی ویکسین کو عالمی سطح پر عوامی بھلا ئی کا اقدام قرار دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے سی پیک سے متعلق کہا کہ پاکستان خطے کے ساتھ رابطہ کاری کیلئے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے اور سی پیک رابطہ کاری کیلئے ایک بہت بڑا منصوبہ ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت چین وسطی ایشیاء اور مشرق وسطہ کی تین ارب سے زائد آبادی خوشحالی کا نیا دور دیکھے گی۔ چیئرمین سینیٹ سی پیک کی بدولت خطے میں اقتصادی و معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے میں مدد ملے گی اور گوادر توانائی، تجارتی اور نقل و حمل کیلئے ایک بہت بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی مددسے صنعت، زراعت اور ترقی کی بدولت روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور پائیدار ترقی اور معاشی خوشحالی کا نیا دور دیکھنے کو ملے گا۔چین کے رہنمانے چیئر مین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی قائدانہ صلاحیتو ں کی تعریف کی اور کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے پاک چین دوستی کو مزید مستحکم کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارے لئے اہم ملک ہے اور چین پاکستان کے ساتھ دوستی پر فخر کر تا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوستی کو نئی بلندیوں پر لے جانے کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے اس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں رابطہ کاری کیلئے مزید عملی اقدامات اتھائے جائے گے اور کثیرلجہتی تعاون کو فروغ دینے کیلئے نئی راہیں ہمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی، سفارتی، اقتصادی، معاشی اور عوامی سطح پر رابطوں میں تیزی لانے کیلئے مزید کوششیں کی جائیں گی۔