کراچی۔ 19 جولائی (اے پی پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ فعال اور مضبوط نظام عدل کے لئے محکمہ پولیس کا بھی عدلیہ کی طرح آزاد و خودمختار ہونا ضروری ہے، ورنہ انصاف کی فراہمی میں مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو ”جسٹس سیکٹر ریفارمز“ کے حوالے سے پولیس ہیڈ آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب …
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کا ”جسٹس سیکٹر ریفارمز“ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
کراچی۔ 19 جولائی (اے پی پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ فعال اور مضبوط نظام عدل کے لئے محکمہ پولیس کا بھی عدلیہ کی طرح آزاد و خودمختار ہونا ضروری ہے، ورنہ انصاف کی فراہمی میں مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو ”جسٹس سیکٹر ریفارمز“ کے حوالے سے پولیس ہیڈ آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں بڑی تعداد میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ پولیس افسران نے شرکت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے فوجداری مقدمات کے حل کے لئے پولیس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کریمنل جسٹس سسٹم میں پولیس اور عدلیہ کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پولیس ریفارمز کے حوالے سے پولیس کے سینئر افسران اور ججز پر مشتمل کمیٹی قائم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد پولیس ریفارمز کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے کام شروع کیا اور عوام میں پولیس کا تاثر بہتر کرنے کے لئے 116 اضلاع میں پبلک کمپلین کمیٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گذشتہ چند ماہ میں ان کمیٹیوں کو 71 ہزار 452 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 57 ہزار درخواست گذاروں کی شکایات کا ازالہ کیا گیا جس کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں نئے مقدمات کی تعداد میں 11 فیصد کمی ہوئی کیونکہ جب درخواست گذاروں کا مسئلہ پولیس کی سطح پر حل ہو جائے تو وہ عدالتوں میں نہیں آتے۔








