چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کاویمن ججز کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب

لاہور۔یکم دسمبر(اے پی پی )چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ معاشرے کے مظلوم افراد کو بہترین انصاف کی فراہمی بہت بڑی عبادت ہے،دنیا میں انصاف کرنا، جنت حاصل کرنے کا بہت ہی سستا سودا ہے،اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں انصاف کرنے اور امانتوں کو خیانت کے بغیر لوٹانے کا حکم دیتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جلد ہی سپریم کورٹ میں خواتین ججز …

لاہور۔یکم دسمبر(اے پی پی )چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ معاشرے کے مظلوم افراد کو بہترین انصاف کی فراہمی بہت بڑی عبادت ہے،دنیا میں انصاف کرنا، جنت حاصل کرنے کا بہت ہی سستا سودا ہے،اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں انصاف کرنے اور امانتوں کو خیانت کے بغیر لوٹانے کا حکم دیتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جلد ہی سپریم کورٹ میں خواتین ججز کو تعینات کیا جائیگا۔ وہ لاہور میں اتوار کو پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام تیسری تین روزہ ویمن ججز کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کررہے تھے۔اختتامی سیشن میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان، نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مامون رشید شیخ، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس جواد حسن، جسٹس اسجد جاوید گورال، جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال،کونسل جنرل امریکی ایمبیسی، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبدالستار، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اشترعباس نے شرکت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کا کردار بڑھتا جا رہا ہے، خواتین مردوں کے غالب معاشرے میں کام کر رہی ہیں اور اب ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو بااختیار بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ججز نے پیچیدہ مقدمات میں قانون کے مطابق فیصلے دے کر اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے ، اب ہمیں بھی خواتین اور مرد ججز میں فرق ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ججز کے اچھے رویے سے لوگ عزت کرتے ہیں، خواتین ججز ذہنی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنا کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ججز کانفرنس کا انعقاد ہم سب کے لئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر جسٹس عائشہ ملک اور انکی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں صنفی امتیاز شروع سے ہی چلا آرہا ہے، ملازمتوں سے لیکر تعلیمی اداروں میں کوٹہ تک ہر جگہ صنفی امتیاز موجود ہوتا ہے، خواتین کو معاشرے میں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے وراثت میں حق کا معاملہ ہو یا روزمرہ گھریلو تشدد کا سلسلہ، خواتین کی اکثریت ایسے مظالم کا شکار ہے ہمارا آئین اور مختلف قوانین خواتین کو خاص حقوق دیتے ہیں، ضابطہ فوجداری کے تحت خاتون ملزم کو ضمانت ملنے آسانی موجود ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے یہ کانفرنس لاہور ہائی کورٹ اور جوڈیشل اکیڈمی کا اہم اقدام ہے، ڈسٹرکٹ جوڈیشری اور ہائیکورٹس کے بعد بہت جلد سپریم کورٹ میں بھی خاتون جج بنچ کا حصہ ہوںگی، خواتین ججز بہت سارے مقدمات میں بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش کریں کہ عدالتوں میں مردوں کی مانند سخت نہ بنیں، بطور خواتین ججز فریقین آپ کے رویے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی منفی سوچ موجود ہے ،بہت سارے وکلاء خواتین ججز کے سامنے پیش ہونے کو اپنی تذلیل سمجھتے ہیں، خواتین ججز کو نااہل سمجھا جاتا ہے ،خواتین ججز کی عدالتوں سے مقدمات ٹرانسفر کرنے کی درخواستیں دی جاتی ہیں لیکن خواتین ججز اپنے رویے، کوڈ آف کنڈکٹ اور فیصلوں سے منفی لوگوں کی سوچ کو بدلیںعدالتوں میں ججز کا سخت رویہ وکلاء اور فریقین پر برا اثر ڈالتا ہے عدالتوں کو شائستہ انداز میں میرٹ اور قانون کے مطابق چلائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جینڈر بیسڈ کورٹس ہماری عدلیہ کا بہت بڑا اقدام ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہمیں جنت میں جانے کا حکم ہوا تو جینڈر بیسڈ کورٹس کی وجہ سے ہوگا کیونکہ معاشرے کے مظلوم افراد کو بہترین انصاف کی فراہمی بہت بڑی عبادت ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہم عدالتوں میں انصاف کرنے کیلئے بیٹھتے ہیں، ہمیں مقدمات کی ایک کاز لسٹ دی جاتی ہے جو ہمارے پاس امانت ہوتی ہے، اگر ہم پوری کاز لسٹ میں موجود مقدمات نہیں سن لیتے تو لوگوں کی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں،اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں انصاف کرنے اور امانتوں کو خیانت کے بغیر لوٹانے کا حکم دیتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں انصاف کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہوں، یہ اللہ تعالیٰ ہم سے کہہ رہا ہے کیونکہ ہم اللہ کی صفت کے امین ہیں، دنیا میں انصاف کرنا، جنت حاصل کرنے کا بہت ہی سستا سودا ہے، انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے افراد اللہ کے برگزیدہ بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے امید کا اظہار کیا کہ اس کانفرنس کے بعد ہماری خواتین ججز کے رویوں اور فیصلوں میں مزید بہتری آئے گی۔ قبل ازیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان نے کانفرنس کے شرکاء سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تین روزہ ویمن ججز کانفرنس بہت کامیاب رہی جس پر تمام انتطامیہ کا کردار لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے کہ مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے محافظ ہیں ، ہمارے آئین قانون کی نظر میں کوئی بھی حقیر یا بالاتر نہیں ہے صرف صنف کی بنیاد پر کسی کو بھی اسکے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا آج خواتین ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں ہماری عدلیہ میں خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے، پنجاب کی ویمن ججز بہترین فیصلے کررہی ہیں۔ فاضل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ خواتین ججز کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہے ہیں، ججز آئین اور قوانین کے محافظ ہوتے ہیں،ہمیں معاشرے کے مظلوم طبقے کو حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، ہماری جینڈر بیسڈ اور جووینائل کورٹس بہترین کام کررہی ہیں، ہم سب کو انصاف کی فراہمی میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار محمد شمیم خان نے کہا کہ اس کانفرنس میں سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ججز کی شرکت نے کانفرنس کے انعقاد کو موثر بنایا ہے، اعلیٰ عدلیہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری اور خواتین جج کے شانہ بشانہ ہے ۔کانفرنس کے تیسرے روز اختتامی سیشن سے لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد خواتین ججز کی عدالتوں میں نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جج کو مکمل طور پر عمر، رنگ، نسل اور صنف سے بالاتر ہوکر انصاف کرنا ہوتا ہے، ہماری عدالتوں میں آنے والا ہر شخص فیئر ٹرائل کا طلبگار ہوتا ہے جج کی نظر میں کوئی بچہ، بوڑھا، مرد، عورت یا ٹرانس جینڈر نہیں ہوتاوہ صرف انصاف کا طلبگار ہوتا ہے لیکن بچے چاہے کسی ظلم کا شکار ہوں یا کسی مقدمے میں ملزم ہوں، انہیں عدالتوں میں بہترین ماحول مہیا کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی اکثریت عدالتوں میں آنے سے گھبراتی ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلیں عدالتوں میں عورتوں اور بچوں سے جرح کا ایک معیار طے ہونا ضروری ہے ہمیں عدالتوں تک آسان رسائی ممکن بنانا ہوگی جب تک کوئی ایک فرد بھی انصاف تک رسائی سے محروم ہے، فراہمی انصاف کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تین روزہ ورکشاپ میں سیکھا ہے کہ صنفی حساسیت کو اجاگر کرنے کیلئے ہر سطح پر ٹریننگ کی ضرورت ہے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہم میں سے کوئی بھی مرد یا عورت نہیں ہے، ہم صرف جج ہیں عدالتوں میں آنے والی عورتوں، بچوں اور ٹرانس جینڈرز کو بہترین سہولیات اور آسانیوں کی فراہمی ضروری ہے ہماری جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹ بہترین کام کررہی ہیں جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹس کے قیام سے عورتوں، بچوں اور ٹرانس جینڈرز کا عدالتوں پر اعتماد بڑھا ہے۔ فاضل جسٹس نے تین روزہ وومن ججز کانفرنس کی سفارشات بھی پیش کیں۔ قبل ازیں خواتین مختلف شعبوں سے منسلک خواتین رہنماؤں فوزیہ وقار، ملیحہ ضیاء اور منزہ حسن نے معاشرے میں موجود صنفی امتیاز اور عورتوں اور بچوں پر ہونے والی تشدد کے حوالے سے تفصیلی پیپرز پیش کئے۔تقریب کے اختتام پر پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کی طرف سے چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس عائشہ اے ملک اور کانفرنس کے منتظمین کو شیلڈزپیش کی گئیں۔