اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے شہریوں کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے وژن کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے ریفارم ایکشن پلان (آر اے پی) پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے نویں انٹرایکٹو اجلاس کی صدارت کی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں عدالتی نظام کو جدید خطوط …
چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر جائزہ اجلاس، سزائے موت کی تمام اپیلیں 45 روز میں نمٹانے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے شہریوں کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے وژن کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے ریفارم ایکشن پلان (آر اے پی) پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے نویں انٹرایکٹو اجلاس کی صدارت کی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی سہولیات میں اضافے سے متعلق ماہانہ پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صدر اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، رجسٹرار سپریم کورٹ، آئی ٹی ایڈوائزر ہمایوں ظفر، سپریم کورٹ کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان، فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (LJCP) کے سیکرٹری نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران مقدمات کے جلد فیصلے، کیس کیٹیگرائزیشن، عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، آئی ٹی انضمام، مالی وصولیوں اور اخراجات کی ڈیجیٹل نگرانی، آڈٹ نظام اور عوامی سہولت کے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو آٹومیشن، سافٹ ویئر میں بہتری، کیو آر کوڈ والے تصدیق شدہ نقول، ای کورٹس، ڈیٹا مینجمنٹ اور اینالیٹکس کی تربیت، نیز اے ڈی آر اور مصالحتی پروگرامز سے بھی آگاہ کیا گیا۔چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ ای فائلنگ اور تصدیق شدہ نقول کے اجرا ء سے متعلق کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ کیس کیٹیگرائزیشن آئندہ دو ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ فائلوں کی نگرانی کے لئے بارکوڈنگ سسٹم 15 روز کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔اجلاس میں جیل پٹیشنز اور سزائے موت کی اپیلوں کی صورتحال کا خصوصی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ 26 اکتوبر 2024 کو چیف جسٹس پاکستان کے منصب سنبھالنے کے وقت سزائے موت کے مقدمات کی تعداد 384 تھی، جو اب کم ہو کر 107 رہ گئی ہے۔ اس دوران 172 نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ 449 مقدمات نمٹا دیئے گئے۔ بنیادی حقِ زندگی سے متعلق مقدمات میں بروقت انصاف یقینی بنانے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ تمام زیر التواء سزائے موت کی اپیلیں آئندہ 45 روز میں نمٹا دی جائیں گی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ عمر قید کے مقدمات بھی بیک وقت مقرر کئے جا رہے ہیں۔ عمر قید کے مقدمات کی تعداد جو 26 اکتوبر 2024 کو 4,160 تھی، کم ہو کر 3,608 رہ گئی ہے۔ سزائے موت کی اپیلوں کے فیصلے کے بعد بنچز عمر قید کے مقدمات کی سماعت شروع کریں گے جن کے شیڈول اور تعداد کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔ مزید یہ بھی طے پایا کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے قیدیوں کی جیل پٹیشنز، ثبوت کی بنیاد پر، بغیر جلد سماعت کی درخواست کے، ترجیحی بنیادوں پر مقرر کی جائیں گی۔ڈی لسٹنگ سے متعلق بتایا گیا کہ عام طور پر کیس کی تاریخ سے کم از کم 48 گھنٹے قبل اطلاع دی جائے گی جبکہ وکلاء فریقین کو بروقت آگاہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ اگر کسی کیس کو 24 گھنٹے کے اندر ڈی لسٹ کیا جائے تو (جمعہ کے علاوہ) اسے دیگر دستیاب بنچز کے سامنے دوبارہ مقرر یا تقسیم کیا جائے گا، بصورت دیگر اگلے ہفتے پالیسی کے مطابق سماعت کے لئے مقرر کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ منظور شدہ آٹھ نکاتی معیار پر پورا اترنے والی اور مکمل دستاویزات کے ساتھ دائر کی گئی جلد سماعت کی درخواستیں براہِ راست مقرر کی جائیں گی۔ مزید بہتری کے لئے ایک ماہ قبل مجوزہ کاز لسٹ جاری کرنے کا نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ ہوا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے، پبلک فسیلیٹیشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے جبکہ اے ڈی آر، مصالحت اور ای پیمنٹ کے منصوبے جاری ہیں،معیاری نظام اور کوالٹی ایشورنس کا عمل 30 اگست 2026 تک مکمل کیا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی آئینی فریضہ ہی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے ای فائلنگ اور ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن میں تعاون پر بار ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کیا اور عدالتی و آئی ٹی شعبوں کی کاوشوں کو سراہا۔ چیف جسٹس نے شفاف، جدید اور مساوی عدالتی نظام کے قیام کے لئے جدت، اشتراک اور شمولیت کے عزم کا اعادہ کیا۔








