چیلنجز کے باوجود سارک چیمبر کے مستقبل بارے پر امید ہیں، افتخار علی ملک

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ سارک چیمبر چارٹر ڈے کے موقع پر ہمیں یہ تجدید عہد کرنا چاہیے کہ ہم باہم مل کر اس خطے کو ایک ایسے جنوبی ایشیا میں تبدیل کرنے کے لیے کام کریں جو پرامن، خوشحال، جامع اور دنیا کے لیے امید اور ترقی و خوش حالی کی کرن ہو اوراس …

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ سارک چیمبر چارٹر ڈے کے موقع پر ہمیں یہ تجدید عہد کرنا چاہیے کہ ہم باہم مل کر اس خطے کو ایک ایسے جنوبی ایشیا میں تبدیل کرنے کے لیے کام کریں جو پرامن، خوشحال، جامع اور دنیا کے لیے امید اور ترقی و خوش حالی کی کرن ہو اوراس مقصد کے لیے ہم باہمی تعاون کے جذبے کے تحت اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔ 39 ویں سارک چیمبر چارٹر ڈے کے موقع پر اتوار کو اپنے پیغام میں جنوبی ایشیا کے بزرگ تاجر رہنما نے کہا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود وہ سارک چیمبر کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں۔ ہماری مشترکہ تاریخ، انتہائی اعلیٰ اور متنوع ثقافتی ورثہ اور سب سے بڑھ کر ہماری امیدیں اور بہتر مستقبل کے لیے خواہشات ان قوتوں سے زیادہ مضبوط اور توانا ہیں جو ہمیں تقسیم رکھنا چاہتی ہیں۔ ہمیں اپنے وژن کو حقیقت میں بدلنا ہے۔

ہم باہم مل کر ایک ایسا جنوبی ایشیا تشکیل دے سکتے ہیں جو اس خطے کے عوام کے خوابوں کو تعبیر دے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ سارک کا جذبہ علاقائی ہم آہنگی اور خوشحالی کی طرف ہمارے سفر میں ہماری رہنمائی کرتا رہے گا۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ یہ تجدید عہد ان اصولوں اور اقدار سے ہماری وابستگی کا اعادہ ہے جو سارک کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غربت، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور حفظان صحت کی ناکافی سہولیات کے بحرانوں کا سامنا ہے جو سرحدوں تک محدود نہیں ہیں۔ یہ چیلنجز اجتماعی کوششوں، باہمی اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کے متقاضی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسے اولین ترجیح دینی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارے عوام کی آواز اور خواہشات ہمارے علاقائی ایجنڈے کی رہنمائی کریں۔ خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کو علاقائی تعاون کے ثمرات میں حصہ ڈالنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے بااختیار بنایا جانا از حد ضروری ہے۔ نجی شعبے کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کے نمائندے اور سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی حیثیت سے وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ سارک کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے۔

اقتصادی شراکت داری، جدت طرازی اور انٹرپرینیورشپ علاقائی انضمام کے کلیدی محرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارک چیمبر مسلسل ایسی پالیسیوں کی وکالت کرتا رہا ہے جو رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کو آسان بنائیں۔ نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کر کے، انفراسٹرکچر کنیکٹیویٹی کو بہتر بنا کر اور ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دے کر ہی ہم جنوبی ایشیا کی مارکیٹوں کی وسیع صلاحیت سے پوری طرح استفادہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے رکن ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ نجی شعبے کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں، سرحد پار منصوبوں اور شراکت داری کی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ ہم باہم مل کر ہی ایک لچکدار، جامع اور پائیدار اقتصادی منظر نامے کی تعمیر کر سکتے ہیں جس سے جنوبی ایشیا کے تمام شہریوں کو فائدہ پہنچے۔ علاقائی انضمام کو درپیش چیلنجز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اب جب کہ سارک نے قابل ذکر پیش رفت کر لی ہے ان چیلنجز کو پہچاننا ضروری ہے جو اس کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ رکن ممالک کے درمیان سیاسی تنا، بداعتمادی اور حل نہ ہونے والے تنازعات سارک کی صلاحیت سے بھر پور استفادہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

خطے کے اندر تجارت اپنی صلاحیت سے نمایاں طور پر کم ہے جو کل تجارتی حجم کا انتہائی چھوٹا سا حصہ ہے۔ یہ یورپی یونین اور آسیان جیسے دیگر علاقائی بلاکس کے بالکل برعکس ہے جنہوں نے علاقائی انضمام اور تعاون کو اس کی اعلیٰ ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔ مستقبل کے وژن کے بارے میں افتخار علی ملک نے کہا کہ مستقبل کے منظر نامے میں وہ ایک ایسی سارک دیکھتے ہیں جو زیادہ متحرک، لچکدار اور متحد ہے۔ آئیے ہم تنازعات کو حل کرنے اور اعتماد پیدا کرنے کے لیے کھلی اور تعمیری بات چیت میں شامل ہونے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کریں۔ دیرینہ مسائل پر قابو پانے اور علاقائی تعاون کے امکانات کو کھولنے کے لیے رکن ممالک کا سیاسی عزم انتہائی اہم ہے۔

آیئے ہم سامان، خدمات اور لوگوں کی بغیر کسی رکاوٹ کے نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ، توانائی، اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس سمیت علاقائی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کریں کیونکہ کنیکٹیویٹی اقتصادی اور سماجی انضمام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قابل تجدید توانائی، تحفظ اور پائیدار ترقی میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنا چاہیے۔

جنوبی ایشیا کے پاس سبز اختراع اور موسمیاتی لچک میں رہنمائی کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں علاقائی پروگراموں کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے سارک اداروں کو مناسب وسائل اور اختیارات فراہم کرتے ہوئے انہیں بااختیار بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں باہمی افہام و تفہیم اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ثقافتی، علمی اور پیشہ ورانہ تبادلوں کو وسعت دیتے ہوئے لوگوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا چاہیے کیونکہ سارک کی اصل طاقت اس کے عوام کے درمیان رابطوں میں ہے۔

اختتام پر افتخار علی ملک نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 35 سال سارک چیمبر میں خدمات سرانجام دی ہیں جن میں صدر، بلامقابلہ نائب صدر پاکستان چیپٹر اور مسلسل 13 مرتبہ ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کی حیثیت سے انہوں نے بے لوث خدمات انجام دیں اور کبھی بھی رہائش، نقل و حمل اور سفری سہولیات کی مد میں ایک پیسے کا فائدہ بھی نہیں اٹھایا اور تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ تجارت کے فروغ کے لیے انہوں نے انتہائی لگن اور محنت سے بے لوث کام کیا یہاں تک کہ صدر ایف پی سی سی آئی، صدر لاہور چیمبر، ممبر بی او ڈی نیشنل بینک آف پاکستان اور کئی دیگر اداروں کے سرپرست اعلیٰ ہونے کے باوجود کسی بھی جگہ سے مراعات نہ لے کر انہوں نے ایک مثال قائم کی جو جنوبی ایشیا کی تاجر سیاست میں ریکارڈ ہے۔

مزید خبریں