بیجنگ۔25دسمبر (اے پی پی):چین کے نجی شعبہ میں اداروں کی تعداد 58 ملین سے زیادہ ہو گئی ہے اور یہ ملک کے ٹیکس ریونیو میں 50فیصد ، جی ڈی پی کا 60فیصد، تکنیکی اختراعی کامیابیوں میں 70فیصد ، روزگار میں 80فیصد اور کاروباری اداروں کی تعداد میں 90فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نجی شعبے اور نجی صنعتکاروں …
چین، نجی شعبہ میں اداروں کی تعداد 58 ملین سے متجاوز، ٹیکس ریونیو میں نجی شعبے کا حصہ 50فیصد ، جی ڈی پی میں 60فیصد اور روزگار کی فراہمی میں حصہ 80فیصد تک پہنچ گیا

مزید خبریں
بیجنگ۔25دسمبر (اے پی پی):چین کے نجی شعبہ میں اداروں کی تعداد 58 ملین سے زیادہ ہو گئی ہے اور یہ ملک کے ٹیکس ریونیو میں 50فیصد ، جی ڈی پی کا 60فیصد، تکنیکی اختراعی کامیابیوں میں 70فیصد ، روزگار میں 80فیصد اور کاروباری اداروں کی تعداد میں 90فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔
سی جی ٹی این کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نجی شعبے اور نجی صنعتکاروں کی ترقی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ان کے صدر بننے کے بعد سے چین میں نجی اداروں کی تعداد 10.85 ملین سے بڑھ کر 58 ملین سے زیادہ ہو گئی ہے،چین میں نجی شعبہ ملک کے ٹیکس ریونیو میں 50فیصد سے زیادہ، جی ڈی پی کا 60فیصد سے زیادہ، تکنیکی اختراعی کامیابیوں میں 70فیصد سے زیادہ، روزگار میں 80فیصد سے زیادہ اور کاروباری اداروں کی تعداد میں 90فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔2018 اور 2025 میں شی جن پنگ نے نہ صرف نجی اداروں کے لیے سمپوزیم کے انعقاد کی تجویز پیش کی بلکہ خود سمپوزیمز کی صدارت بھی کی۔
ان تقاریب میں انہوں نےنجی شعبے کو درپیش مشکلات دور کرنے میں مدد کی ، ان کی حوصلہ افزائی کی، ان کے اعتماد کو مستحکم کیا اور جدت پر مبنی ترقی کو فروغ دیا۔ 20 مئی 2025 کو چین میں باضابطہ طور پر نجی معیشت کے فروغ کا قانون نافذ العمل ہوا ، یہ قانون چین کا پہلا بنیادی قانون ہے جو خاص طور پر نجی معیشت کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بطور دنیا کی دوسری بڑی معیشت ، چین کا عالمی معیشت میں حصہ کئی سال سے تقریباً 30 فیصد رہا ہے، چین کی نجی معیشت فطری طور پر عالمی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ چین کے نجی صنعتی و کاروباری ادارے ٹیکنالوجی کے اشتراک اور ماحولیاتی نظام کی مشترکہ تعمیر پر مبنی اپنی منفرد مشرقی دانش کے ذریعے شمال اور جنوب کےدرمیان ترقیاتی فرق کو کم کرنے میں قابل تقلید حل فراہم کر رہے ہیں۔








