اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) چینی میڈیا کے ایک وفد نے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور سرکاری نیوز ایجنسی کے ساتھ تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ چینی وفد کے ارکان چینی میڈیا کے تعاون اور کمیونیکیشن پروگرام کے تحت پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ چین کے سینٹرل ٹیلی ویژن کے …
چینی میڈیا کے وفد کا قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، سرکاری نیوز ایجنسی کے ساتھ تعاون کے امور پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) چینی میڈیا کے ایک وفد نے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور سرکاری نیوز ایجنسی کے ساتھ تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ چینی وفد کے ارکان چینی میڈیا کے تعاون اور کمیونیکیشن پروگرام کے تحت پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ چین کے سینٹرل ٹیلی ویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ژانگ شیلی کی زیر قیادت وفد نے اے پی پی کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں ان شعبوں کے امور کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ”اے پی پی“ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اختر منیر نے وفد کو ”اے پی پی“ کے انتظامی ڈھانچے اور اس کے کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔ وفد کو بتایا گیا کہ اے پی پی پاکستان کی ممتاز نیوز ایجنسی ہے جو عوام کو درست، بامقصد اور بلاتعطل خبریں فراہم کرتی ہے۔ اختر منیر نے کہا کہ ”اے پی پی“ عوام کو ان کے ارد گرد ہونے والے واقعات کے بارے میں بروقت آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا بیانیہ اور اس کا حقیقی تشخص عالمی سطح پر اجاگر کر رہی ہے۔ ڈائریکٹر نیوز نے اپنی تفصیلی بریفنگ میں وفد کوبتایا کہ ”اے پی پی“ انگریزی، اردو، سرائیکی، سندھی، پشتو، عربی، بلوچی اور براہوی زبانوں میں نیوز سروس کے ساتھ ساتھ فوٹو اور ویڈیو نیوز سروسز بھی فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں اپنے ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ ساتھ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے ملک کے تمام بڑے شہروں میں بیوروز اور اسٹیشنز ہیں جبکہ بین الاقوامی کوریج کے لئے ”اے پی پی“ کے چین سمیت مختلف ممالک میں نمائندگان بھی ہیں۔ ڈائریکٹر نیوز نے کہا کہ ”اے پی پی“ ملک کے تشخص کو فروغ دینے اور قومی و علاقائی امور پر اس کا حقیقی نکتہ نظر اجاگر کرنے کے مینڈیٹ کے تحت کام کر رہی ہے۔ ”اے پی پی“ نے بہت سی غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے ساتھ خبروں کے تبادلے کے بھی معاہدے کئے ہوئے ہیں جن کے تحت اہم خبریں، فوٹو اور وژیول نیوز سروسز کا باقاعدگی کے ساتھ تبادلہ کیا جاتا ہے۔








