اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):ستمبر 2025ء میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی وزیر اعظم کی قیادت میں پاک-چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے بعد شینزین میں قائم ای وی ٹیکنالوجی فرم چائو نیو (الیکٹرک موٹر سائیکل) کے تین رکنی ممتاز وفد نے پاکستان کے ابھرتے ہوئے الیکٹرک وہیکل (ای وی) شعبے میں تعاون، لوکلائزیشن اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او …
چینی چائو نیو (ای وی) الیکٹرک موٹر سائیکل کمپنی کا پاکستان میں سرمایہ کاری اور لوکلائزیشن کے مواقع پر غورکے لئے سرمایہ کاری بورڈ کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):ستمبر 2025ء میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی وزیر اعظم کی قیادت میں پاک-چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے بعد شینزین میں قائم ای وی ٹیکنالوجی فرم چائو نیو (الیکٹرک موٹر سائیکل) کے تین رکنی ممتاز وفد نے پاکستان کے ابھرتے ہوئے الیکٹرک وہیکل (ای وی) شعبے میں تعاون، لوکلائزیشن اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کا دورہ کیا۔
اس ملاقات کی صدارت ڈاکٹر عرفہ اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری (ای ڈی جی۔II) نے کی جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران بشمول عدیل حسن (چین و آئی سی ایکسپرٹ) اور عمران خان (ڈائریکٹر ایس ای زی) بھی شریک ہوئے۔ چینی وفد کی قیادت لو ژونگ (سی ای او، چائو ننگ /ٹرینڈ آف الیکٹریکل ٹیکنالوجی) نے کی جبکہ ان کے ہمراہ وانگ جئے (بزنس مینجر) اور پاکستانی بزنس پارٹنر باجوہ بھی موجود تھے۔
وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری (ای ڈی جی۔II)نے اس امر پر زور دیا کہ حکومتِ پاکستان نے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے وسیع اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں متعارف کردہ پالیسی اور ریگولیٹری اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز کے تحت بالخصوص ای وی اور ہائی ٹیک منصوبوں کے لیے پرکشش مراعات فراہم کر رہا ہے اور عملدرآمد کے مرحلے میں مکمل سہولت کاری، ہم آہنگی اور پالیسی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات کے دوران لو ژونگ نے شرکا کو شینزین سٹی ورلڈ وائڈ نیو انرجی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ کمپنی کی تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کی سرگرمیاں دنیا کے ممتاز ٹیکنالوجی مراکز میں سے ایک، شینزین میں انجام دی جاتی ہیں جبکہ اس کی مینوفیکچرنگ سرگرمیاں ایک دوسرے خطے میں واقع ہیں۔
انہوں نے آگاہ کیا کہ کمپنی میں 100 سے زائد ماہر اور ہنر مند افراد کام کر رہے ہیں اور یہ کمپنی ایسے مربوط ای وی موٹر سسٹمز میں مہارت رکھتی ہے جن کے ذریعے روایتی موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ملاقات میں بالخصوص درج ذیل امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان میں ای وی ٹیکنالوجیز کی لوکلائزیشن خاص طور پر دو پہیہ الیکٹرک گاڑیوں پر توجہ، بنیادی ای وی ٹیکنالوجیز کی منتقلی جن میں الیکٹرک موٹرز، بیٹری سسٹمز اور الیکٹرانک کنٹرول یونٹس (ای سی یوز) شامل ہیں، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) سہولیات کا قیام اور مرحلہ وار مینوفیکچرنگ، جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے اشتراک کے لیے موزوں پاکستانی شراکت داروں کی نشاندہی کی اور کہا کہ الیکٹرک وہیکلز اور یہ تمام اقدامات پاک۔
چین اقتصادی تعاون کے تحت ایک ترجیحی شعبہ ہیں جہاں دو پہیہ، تین پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ دورہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی ویلیو ایڈیشن اور پاکستان میں پائیدار سفری حل کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ نے دورہ کرنے والی کمپنی کو مکمل سہولت کاری کی یقین دہانی کراتے ہوئے مشترکہ خوشحالی کے لیے صنعتی شراکت داری کو فروغ دینے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
یہ ملاقات سی پیک کے صنعتی تعاون مرحلے کے تحت پیش رفت کو مزید تقویت دینے کا باعث بنی جو پاکستان کے پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے طویل المدتی اہداف میں معاون ثابت ہوگی۔وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کی قیادت میں بورڈ آف انویسٹمنٹ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون بڑھانے اور پاکستان کے عالمی اقتصادی انضمام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، بالخصوص چین کے ساتھ جو پاکستان کا دیرینہ سٹریٹجک شراکت دار ہے۔ یہ ملاقات پاک۔چین صنعتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور سی پیک فیز۔II کے تحت پیش رفت کو تیز کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔








