چین نے زمین اور چاند کے درمیان لیزر کمیونیکیشن کا کا میاب تجربہ مکمل کر لیا
چین نے زمین اور چاند کے درمیان لیزر کمیونیکیشن کا کا میاب تجربہ مکمل کر لیا

مزید خبریں
بیجنگ۔29اگست (اے پی پی):چین کےمحققین نے زمین اور چاند کے درمیان لیزر کمیونیکیشن کا تجربہ مکمل کر لیا ہے، جس میں مدار میں دو طرفہ تیز رفتار لیزر رابطے کی صلاحیتوں کی کامیاب تصدیق کی گئی ہے۔شنہوا کے مطابق چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ سینٹر فار سپیس یوٹیلائزیشن (سی ایس یو) نے اطلاع دی ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک مدار میں تجربات کے بعد، ٹیم نے 4لاکھ کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر دو طرفہ لیزر کمیونیکیشن لنک قائم کیا۔
اس کامیابی کے ساتھ چین کی خلائی لیزر کمیونیکیشن کی صلاحیتیں زمین کے قریب مدار سے بڑھ کر گہری خلائی حدود تک پہنچ گئی ہیں۔روایتی مائیکرو ویو کمیونی کیشن کے مقابلے میں لیزر کمیونیکیشن زیادہ تیز رفتار، وسیع تر بینڈوڈتھ، بہتر سکیورٹی اور زیادہ چھوٹے ہارڈویئر کی سہولت فراہم کرتی ہے،تاہم زمین اور چاند کے درمیان لیزر کمیونیکیشن کو ممکن بنانے کے لیے تین بڑے چیلنجز لیزر بیم کی درست سمت بندی، سگنل کی کمزوری اور ترسیل کی رفتارپر قابو پانا ضروری تھا۔
سی ایس یوکے محقق اور لیزر کمیونیکیشن ٹیسٹ ٹیم کے سربراہ یانگ لئی نے کہا کہ زمین اور چاند کے درمیان کمیونیکیشن ایسا ہے جیسے ایک ہزار میل دور سے سوئی میں دھاگا ڈالنا۔اتنے بڑے فاصلے کی وجہ سے سیٹلائٹ کی معمولی سی حرکت یا زمین کے ماحول میں موجود ہلچل بھی لیزر بیم کو اپنی سمت سے ہٹا سکتی ہے۔ زاویے میں انتہائی معمولی سی غلطی بھی چاند تک پہنچتے پہنچتے کلومیٹرز کے فاصلے کی بڑی غلطی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ٹیم نے ایک جدید حصول اور ٹریکنگ نظام تیار کیا، جس میں مداری، ماحولیاتی اور آپٹیکل ترسیلی تاخیر کی اصلاحات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کی مدد سے زمین پر موجود اور خلائی آلات حرکت کے دوران بھی لیزر بیم کو انتہائی درستگی کے ساتھ ایک دوسرے کی سمت میں برقرار رکھ سکتے ہیں۔
چاند پر انسانوں کی آئندہ لینڈنگ اور تحقیقی سٹیشن کی تعمیر کے منصوبوں کے پیش نظر، مستقبل میں چاند کی تحقیق اور کھوج کے دوران بڑی مقدار میں مشاہداتی تصاویر اور سائنسی ڈیٹا تیار ہوگا، جسے منتقل کرنے کے لیے روایتی مواصلاتی نظام کی موجودہ بینڈوڈتھ ناکافی ثابت ہوگی۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق زمین اور چاند کے درمیان قائم کیا جانے والا یہ لیزر پر مبنی ’’انفارمیشن ہائی وے‘‘ مستقبل کے قمری مشنز کے لیے تیز رفتار ڈیٹا ترسیل کا ایک نیا اور موثر ذریعہ فراہم کرے گا۔








