چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان مضبوط رشتے کی علامت ہے، وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ سابق حکومت نے ذاتی منصوبہ بنا دیا تھا، کوئی ادارہ ایسا نہیں جو انہوں نے تباہ نہ کیا ہو، ملک کو گروی رکھوایا، سی پیک کے منصوبے کے بڑے دشمن ہیں، اپوزیشن کو ان کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے، سی پیک چین اور پاکستان کے عوام کی محبت …

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ سابق حکومت نے ذاتی منصوبہ بنا دیا تھا، کوئی ادارہ ایسا نہیں جو انہوں نے تباہ نہ کیا ہو، ملک کو گروی رکھوایا، سی پیک کے منصوبے کے بڑے دشمن ہیں، اپوزیشن کو ان کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے، سی پیک چین اور پاکستان کے عوام کی محبت کا نمونہ بنے گا، سی پیک اتھارٹی کا بل قومی اسمبلی میں آج پیش کیا جا رہا ہے، سی پیک اتھارٹی کے حوالے سے توجہ دلائو نوٹس کی تحریک بدنیتی پر مبنی ہے، اس طرح کے اقدامات سے دوستوں کو غلط پیغام جاتا ہے اور دشمنوں کو خوشی ہوتی ہے، اپوزیشن میں سچ سننے کا حوصلہ نہیں ہے، کسی قسم کی سازش سی پیک منصوبے کو ڈی ریل نہیں کر سکتی۔ جمعرات کو ایوان بالا میں سینیٹر رضا ربانی کے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سی پیک ایسا منصوبہ ہے جو کسی سیاسی جماعت کا منصوبہ نہیں، یہ چین اور پاکستان کی حکومتوں اور عوام کا منصوبہ ہے، اس کو غیر سیاسی بنانے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اس پر کام کو آگے بڑھانے کے لئے ہم نے سی پیک اتھارٹی بنائی اور آرڈیننس کے ذریعے اس کا قیام عمل میں لایا گیا، بدقسمتی سے ملک میں قومی مفاد کا کوئی بھی کام ہو اپوزیشن کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہے اور اس پر اعتراضات کرتی ہے، انہوں نے قائمہ کمیٹیوں میں منظور ہونے والے فیصلوں کو بھی خود مسترد کیا، اپوزیشن میں سچ سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے لیکن یہ سچ نہیں سن سکتے، سی پیک پر بھرپور طریقے سے کام جاری ہے اور یہ پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان مضبوط رشتے کی علامت ہے، سی پیک اتھارٹی کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے، پھر ہم دیکھیں گے کہ اسے منظور کرانے میں یہ کتنا تعاون کرتے ہیں، اپوزیشن نے باقی اداروں کو تہس نہس کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، سی پیک اتھارٹی کو ناکام کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ایوان میں پیش کی جانے والی یہ تحریک بدنیتی پر مبنی ہے، بل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ میں بھی آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے کسی ادارہ کو بھی نہیں چھوڑا، سی پیک کا سیاسی، قانونی، خارجہ اور دیگر پہلو ہیں اور یہ چین اور پاکستان کے عوام کا منصوبہ ہے، اس پر بات کے خلاف بات کرنے سے دوستوں کو غلط پیغام جاتا ہے اور دشمنوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ لوگ دوستوں کو غلط پیغام نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چین کے عوام اور حکومت کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ سی پیک پر کام بھرپور طریقے سے ہو رہا ہے، پیش رفت نہیں رکی، نئے عزم سے یہ منصوبہ آگے بڑھے گا، پچھلی حکومت نے اسے ذاتی منصوبہ بنا دیا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ اسے غیر سیاسی کیا جائے، ہم نے وہ ادارے مضبوط کئے ہیں جو انہوں نے تباہ کئے تھے اور ملک کو گروی رکھوا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ توجہ دلائو نوٹس پر متعلقہ وزیر کے جواب دینے کے بعد سوال جواب نہیں ہو سکتا۔