بیجنگ۔ 3 فروری (اے پی پی) چین نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے چینی حکومت کے ساتھ ٹھوس تعاون پر پاکستانی قیادت سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ وہ اس اعتماد کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہوا چنینگ نے پیر کو یہاں آن لائن بریفنگ کے دوران کہا کہ وباءکے خاتمہ کی کوششوں میں پاکستان ہمارے ساتھ …
چین کاکرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ٹھوس تعاون پر پاکستانی قیادت سے اظہار تشکر،چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہوا چنینگ کی آن لائن بریفنگ

مزید خبریں
بیجنگ۔ 3 فروری (اے پی پی) چین نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے چینی حکومت کے ساتھ ٹھوس تعاون پر پاکستانی قیادت سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ وہ اس اعتماد کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہوا چنینگ نے پیر کو یہاں آن لائن بریفنگ کے دوران کہا کہ وباءکے خاتمہ کی کوششوں میں پاکستان ہمارے ساتھ کھڑا ہے جو پروازوں اور ادویات کے حوالہ سے مدد کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان آہنی دوست ہیں جن میں باہمی مددکی اچھی روایت موجودہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستانیوں کی صحت کے تحفظ کے لئے پاکستان کے ساتھ قریبی رابطہ اور تعاون سے کام کرے گا کرونا وائرس کے خاتمہ کے سلسلہ میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیانات کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ بلاشبہ پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے وائرس کے خاتمہ کی کوششوں میں چین کی ٹھوس حمایت اورتعریف کی ہے جنہوں نے چین میں پاکستانی شہریوں کی مدد پر بھی چینی حکومت اور عوام کی تعریف کی ہے ۔ اس گھڑی میں پاکستان کے عوام اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ مستحکم طورپر کھڑے ہیں ہواچنینگ نے کہا کہ پاکستان کی طرح دیگر ممالک نے بھی چین کے ساتھ مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے جن کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ہم وباءکے خاتمہ کے لئے پر امید ہیں اور اس کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور بعض دیگر ممالک کی طرف سے طبی امداد کے متعلق انہوں نے کہا کہ کرونا نمونیہ کی وباءشروع ہونے کے بعد کچھ ممالک نے مختلف ذرائع سے چین کے ساتھ مفاہمت اور حمایت کا اظہار کیا جن سب کے ہم بہت مشکور ہیں پاکستان ، جمہوریہ کوریا ،جاپان برطانیہ ،فرانس، ترکی ،قازخستان ،،ہنگری ایران، بیلا روس، انڈونیشیا اور یونیسف کی جانب سے فراہم کردہ طبی سامان 2 فروری کی دوپہر چین پہنچ گیا ہے اس کے علاوہ مختلف ممالک کے ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے بھی ہمیں مدد کی پیشکش کی ہے ان سب کا میں شکریہ ادا کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دوست وہی جو مشکل میں ساتھ دے ۔ترجمان نے کہا کہ اس وقت چین کو فوری طور پر میڈیکل ماسک ،حفاظتی سوٹ اور حفاظتی چشموں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت نے ہمیں کوئی خاطر خواہ مدد نہیں دی بلکہ امریکہ ووہان میں اپنے قونصلیٹ سے عملہ نکالنے والا پہلا ملک تھا جس نے سب سے پہلے اپنے سفارتخانہ کے عملہ کی جزوی واپسی کی تجویز دی اور سب سے پہلے چینی مسافروں پر سفری پابندی لگائی اس کی ان سب کوششوں سے صرف خوف وہراس پھیل۔انہوں نے کہا کہ ہم وائرس کے خاتمہ کے لئے پر امید ہیں اور اس کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور تمام ممالک کے شہریوں کی جان اور صحت کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔








