چین کا یوکرین تنازع میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور

اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے یوکرین تنازع پر بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل، فوجی کارروائیوں میں کمی اور مذاکرات کی جلد بحالی پر زور دیا۔

اقوام متحدہ ۔11جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، فوجی کارروائیوں میں کمی لائیں اور جلد از جلد مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں۔

شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سن لی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں دونوں فریقوں کی جانب سے زیادہ شدت، وسیع پیمانے اور بڑے دائرۂ کار میں فوجی حملے کیے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین شہریوں اور شہری تنصیبات پر ہر قسم کے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے حملے بند کریں۔چینی مندوب نے کہا کہ حالیہ دنوں میں فریقین فوجی محاذ آرائی اور جوابی کارروائیوں کے ایک خطرناک سلسلے میں پھنس چکے ہیں، جس سے نہ صرف عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ نفرت اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث امن مذاکرات کی راہ مزید دشوار بنتی جا رہی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں تاکہ جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔سن لی نے کہا کہ فریقین کو سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے، جلد از جلد مذاکرات بحال کرنے چاہییں اور ایک جامع، دیرپا اور قابلِ عمل امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، اس لیے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق ایک ایسا مشترکہ حل تلاش کیا جانا چاہیے جو دونوں جانب کے سکیورٹی مفادات کا احترام کرے، تنازع کی بنیادی وجوہات کو دور کرے اور خطے میں متوازن، مؤثر اور پائیدار سکیورٹی نظام کے قیام کے ذریعے دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنائے۔چینی مندوب نے کہا کہ چین یوکرین بحران کے سیاسی حل کے لیے غیرجانبدار اور منصفانہ مؤقف پر قائم ہے، تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور امن مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر یوکرین بحران کے جلد سیاسی حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔