چین کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ عالمی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو تقویت دے گا،پاکستانی قونصل جنرل

بیجنگ۔4مارچ (اے پی پی):شنگھائی میں پاکستان کے قونصل جنرل شہزاد احمد خان نے کہا ہے کہ چین کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ نہ صرف چین بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے چائنا اکنامک نیٹ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ 2026 میں 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز اور پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ ایک …

بیجنگ۔4مارچ (اے پی پی):شنگھائی میں پاکستان کے قونصل جنرل شہزاد احمد خان نے کہا ہے کہ چین کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ نہ صرف چین بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے چائنا اکنامک نیٹ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ 2026 میں 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز اور پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ ایک ساتھ منائی جائے گی، جو دوطرفہ تعلقات کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔پاکستانی قونصل جنرل نے کہا کہ وہ خاص طور پر چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اس کی بیرونی جہت سے متعلق اشاروں کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ چین کثیرالجہتی نظام اور عالمی روابط کے منصوبوں جیسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرے گا اور ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان کے لیے باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دے گا۔ قونصل جنرل نے دلچسپی کے کئی اہم شعبوں کا خاکہ پیش کیا، جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسیاں، بین الاقوامی تعاون، جدت طرازی اور ماحول دوست نمو شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ چین کس طرح گرین ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل جدت کو اپنی معاشی مشینری میں ضم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستانی قونصل جنرل نے کہا کہ 15واں پانچ سالہ منصوبہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک اہم موڑ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین گزشتہ برسوں میں عالمی اقتصادی ترقی میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈالتا رہا ہے۔ 14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین کی مجموعی قومی پیداوار 2025 میں 140 کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی، اور چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے، جو عالمی اقتصادی پیداوار کا تقریباً چھٹا حصہ ہے۔

قونصل جنرل نے کہا کہ ایک پراعتماد چینی معیشت دنیا کے لیے ایک طاقتور انجن کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اجلاسوں کے دوران شرحِ نمو کا ایسا ہدف مقرر کیا جائے گا جو چین کی مضبوط اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی سمت کی عکاسی کرےایسی ترقی جو جدت اور استحکام کے درمیان توازن قائم رکھے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کے لیے اس کے براہِ راست اور ٹھوس فوائد ہوں گے۔ایک مضبوط چینی معیشت سے مارکیٹ تک زیادہ رسائی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے سرحدوں کے پار مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

اپنے روزمرہ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شنگھائی اور یانگسی ریور ڈیلٹا خطے میں غیر ملکیوں کے لیے سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے، موبائل ادائیگیوں اور ڈیجیٹل خدمات کو بین الاقوامی صارفین کے لیے مزید موزوں بنایا گیا ہے جبکہ ویزا عمل کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت چین کی کشادگی اور مشترکہ مستقبل کے وژن کا ثبوت ہے۔