چین کی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے اپ گریڈ شدہ جنریٹیو چیٹ بوٹ Qwen متعارف کرادیا

بیجنگ۔18نومبر (اے پی پی):چین کی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے مصنوعی ذہانت (AI) ڈیویژن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک اپ گریڈ شدہ جنریٹیو چیٹ بوٹ Qwen متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد صارفین کے درمیان اس کے استعمال کو تیز کرنا ہے۔ شنہوا کے مطابق کمپنی نے جاری بیان میں کہا کہ یہ نیا چیٹ بوٹ اس کے انتہائی مقبول اوپن سورس ماڈل پر تیار کیا گیا …

بیجنگ۔18نومبر (اے پی پی):چین کی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے مصنوعی ذہانت (AI) ڈیویژن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک اپ گریڈ شدہ جنریٹیو چیٹ بوٹ Qwen متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد صارفین کے درمیان اس کے استعمال کو تیز کرنا ہے۔ شنہوا کے مطابق کمپنی نے جاری بیان میں کہا کہ یہ نیا چیٹ بوٹ اس کے انتہائی مقبول اوپن سورس ماڈل پر تیار کیا گیا ہے، جسے دنیا بھر میں 600 ملین سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ Qwen کو ایک مکالماتی اور ٹاسک پر مبنی ذاتی اے آئی اسسٹنٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

علی بابا نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ تین سال میں 380 بلین یوان سے زائد سرمایہ کاری کلاؤڈ اور اے آئی ہارڈویئر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں کرے گی تاکہ AI صنعت کی تیز رفتار ترقی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔چین کی ڈیپ سیک کے ساتھ، علی بابا کے حال ہی میں لانچ کردہ فلیگ شپ Qwen3-Max نے بین الاقوامی معیار کے مطابق عالمی سطح پر اعلیٰ درجے میں اپنی پوزیشن حاصل کی ہے۔

حال ہی میں چھ ماڈلز پر مشتمل ایک عالمی سرمایہ کاری مقابلے میں، Qwen نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ڈیپ سیک دوسرے نمبر پر رہا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی اب انسانوں سے سیکھنےکے مرحلے سے آگے بڑھ کر انسانوں کی معاونتکے دور میں داخل ہو گیا ہے، اور کمپنی کے منصوبے کے مطابق Qwen کو روزمرہ زندگی میں مختلف شعبوں میں شامل کیا جائے گا،

جن میں نقشے، خوراک کی ڈیلیوری، سفر، آفس ٹولز، شاپنگ اور صحت کی دیکھ بھال شامل ہیں۔کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ چین کی دیگر جنریٹیو AI کمپنیاں، جیسے کیمی ، اے آئی ، زی پواورمنی میکس ، اپنے اوپن سورس ماڈلز کے ساتھ تیزی سے مقابلہ کر رہی ہیں، جس سے عالمی سطح پر ایک اوپن ایکو سسٹم تشکیل پا رہا ہے۔

مزید خبریں