چین کے صدرکی پیرو اور جمہوریہ چیک کے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک بات چیت

بیجنگ۔ 04مئی (اے پی پی) چین کے صدر شی جن پنگ نے پیرو کے صدر مارٹن البرٹو ویزکارا کورنیجو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ کووڈ91کی وباءکے سامنے چین ہمیشہ کی طرح بنی نوع انسان کے مساوی معاشرے کے تصور کی روشنی میں متعدد ممالک اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بروقت معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے اور انسداد …

بیجنگ۔ 04مئی (اے پی پی) چین کے صدر شی جن پنگ نے پیرو کے صدر مارٹن البرٹو ویزکارا کورنیجو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ کووڈ91کی وباءکے سامنے چین ہمیشہ کی طرح بنی نوع انسان کے مساوی معاشرے کے تصور کی روشنی میں متعدد ممالک اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بروقت معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے اور انسداد وباءکے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے اپنی صلاحیت کے مطابق متعدد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کو ہنگامی امدادی سازوسامان فراہم کیا، انسداد وباءکے تجربات شیئر کئے ، حفاظتی سازوسامان کی برآمد کو ہموار کیا تاکہ مختلف ممالک کو انسداد وباءمیں مدد دی جائے۔انہوں نے کہا کہ چین دنیا میں وباءکے خلاف مشترکہ تعاون کرنے کی حمایت کرتا ہے ، انسداد وباءمیں عالمی ادارہ صحت سمیت عالمی تنظیموں کی رہنمائی کی حمایت کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اقتصادی پالیسی کے حوالے سے صلاح و مشورہ کو مضبوط بنانے کی حمایت کرتا ہے۔چینی صدر نے اسی روز جمہوریہ چیک کے ہم منصب میلو زیمان سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین جمہوریہ چیک سمیت عالمی برادری کے ساتھ مل کر وباءکی روک تھام اور کنٹرول کے لئے تعاون کرنا چاہتا ہےاور اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی پالیسی کے حوالے سے مشاورت کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تاکہ وباءکے عالمی معیشت پر گہرے اثرات سے مشترکہ طور پر نمٹا جائے۔انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں سے وبا پر ضرور قابو پالیا جائے گا۔شی جن پنگ نے مزید کہا کہ چین اور جمہوریہ چیک کے درمیان اچھے تعلقات دونوں ممالک اور عوام کے بنیادی مفادات سے مطابقت رکھتے ہیں،چین جمہوریہ چیک کے ساتھ تعلقات کو مزید آگے بڑھانا چاہتا ہے۔جمہوریہ چیک کے صدر نے کہا کہ چین نے کامیابی کے ساتھ کووڈ91 کی وباءپر قابو پا لیا ہے اور چینی معیشت بھی بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے وباءکے خلاف چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی حمایت اور امداد کا شکریہ ادا کیا۔