ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم کے زیر اہتمام اجلاس میں اہم پیش رفت، دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹس کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل طے
ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم کے زیر اہتمام اجلاس میں اہم پیش رفت، دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹس کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل طے

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم (ڈی جی آر ای) کے زیر اہتمام دینی مدارس کے بینک اکائونٹس کھولنے کے دیرینہ مسئلے کے حل کے حوالے سے اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیم میجر جنرل (ر) ڈاکٹر قمر غلام نے کی۔اجلاس میں ملک بھر کے مختلف دینی بورڈز کے قائدین، نمائندگان، جامعات کے سربراہان اور متعلقہ حکام کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور مختلف کمرشل بینکوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں دینی مدارس کو بینک اکائونٹس کھولنے میں درپیش قانونی، انتظامی اور عملی مشکلات اور ان کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی جی آر ای، سٹیٹ بینک اور دینی بورڈز کے قائدین کے درمیان باہمی مشاورت، ہم آہنگی اور اتفاق رائے سے دیرینہ مسئلے کے حل کی جانب اہم پیش رفت ہوئی۔
طے پایا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں جہاں متعلقہ قانونی و انتظامی طریقہ کار مکمل ہو چکا ہے، دینی مدارس کے بینک اکائونٹس کھولنے کے عمل کو فوری طور پر آگے بڑھایا جائے گا جبکہ دیگر علاقوں میں درپیش رکاوٹوں کو باہمی تعاون اور مشاورت سے دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس کے شرکا نے اس پیش رفت کو دینی مدارس کے لیے اہم انتظامی رکاوٹ دور ہونے کی امید قرار دیتے ہوئے ڈی جی آر ای اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔ دینی بورڈز کے نمائندگان نے کہا کہ پاکستان کے دینی مدارس ایک وسیع اور منظم تعلیمی و تربیتی شعبہ ہیں جہاں لاکھوں بچے اور بچیاں کسی بڑے ریاستی مالی تعاون کے بغیر دینی و اخلاقی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دینی مدارس ریاستی قوانین کی پاسداری، مسلکی رواداری، باہمی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
شرکا نے ڈی جی آر ای کے قیام کو دینی مدارس کے حوالے سے ریاستی پالیسی میں تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ قومی سطح پر دینی مدارس کو ایک باوقار ریاستی ادارے کے ذریعے منظم رابطہ، نمائندگی اور مسائل کے حل کے لیے موثر پلیٹ فارم میسر آیا ہے۔ دینی بورڈز کے قائدین نے دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کو جدید فنی و پیشہ ورانہ کورسز، عصری علوم اور ہنرمندی کے مواقع سے منسلک کرنے کے لیے ڈی جی آر ای کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور انہیں قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔
شرکا اجلاس نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ڈی جی آر ای کے قیام سے ریاست اور دینی مدارس کے درمیان فاصلے کم، باہمی اعتماد کا رشتہ مضبوط اور دینی مدارس کو قومی تعلیمی و ترقیاتی پالیسی کے دائرے میں لانے کے عمل کو تقویت ملی ہے۔ دینی بورڈز کے قائدین نے امید ظاہر کی کہ دینی مدارس کے بینک اکائونٹس کے مسئلے کے حل کے لیے ڈی جی آر ای، سٹیٹ بینک اور دینی بورڈز کے درمیان ہونے والی مثبت پیش رفت کی طرح دینی مدارس کو درپیش دیگر قانونی، تعلیمی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے بھی باہمی مشاورت اور تعاون کا سلسلہ مزید مضبوط ہوگا۔
اجلاس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاستی اداروں اور دینی مدارس کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون، قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کو معیاری دینی تعلیم کے ساتھ جدید عصری اور فنی تعلیم کے بہتر مواقع میسر آسکیں اور وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مزید موثر کردار ادا کر سکیں۔
اجلاس میں چیئرمین پاکستان علماء كونسل علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی ، ناظم اعلىٰ نظام المدارس پاکستان و ترجمان متحده علماء كونسل علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری ، صدر اتحاد المدارس العربیہ پاکستان مفتی محمد زبیر فہیم ، صدر بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن علامہ مفتی شیخ عبد اللطيف ، صدر اتحاد المدارس الاسلامیہ کراچی علامہ مفتی محمد يوسف كشميرى ، نائب صدر مجمع المدارس تعليم الكتاب والحكمة علامہ توقیر عباس ، كوآرڈینیٹر مجمع العلوم الاسلامیہ جامعہ الرشید کراچی علامہ انجینئر محمد عثمان يوسف ، مرکزی نائب صدر وفاق المدارس السلفية ڈاکٹر شمس الرحمان شمس ، صدر وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان علامہ حافظ محمد طيب طابرى ، نمائنده جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن علامہ جنید اکبر ، نمائنده نظام المدارس پاکستان علامہ صاحبزاده نفیس القادری اور نماینده دینی بورڈز سید راويل تاج نے بھی شرکت کی۔








