ڈبلیو ٹی او میں اصلاحات کامیابی سے نافذ کرنا ادارے کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ، عالمی تجارتی تنظیم کے سہولت کار کا انتباہ

جنیوا۔4فروری (اے پی پی):عالمی تجارتی ادارے میں اصلاحات سے متعلق مذاکرات کے سہولت کار پیٹر اولبرگ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں اصلاحات کامیابی سے نافذ کرنا ادارے کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔اے ایف پی کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم عالمی تجارت کے بڑے حصے کو منظم کرتی ہے تاہم اسے تمام رکن ممالک کے مکمل اتفاق رائے کی شرط …

جنیوا۔4فروری (اے پی پی):عالمی تجارتی ادارے میں اصلاحات سے متعلق مذاکرات کے سہولت کار پیٹر اولبرگ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں اصلاحات کامیابی سے نافذ کرنا ادارے کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔اے ایف پی کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم عالمی تجارت کے بڑے حصے کو منظم کرتی ہے تاہم اسے تمام رکن ممالک کے مکمل اتفاق رائے کی شرط کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اس کا تنازعات کے حل کا نظام امریکا کی جانب سے مفلوج کیا جا چکا ہے۔

ناروے کے ڈبلیو ٹی او میں سفیر پیٹر اولبرگ نے حالیہ انٹرویو میں اے ایف پی کو بتایاکہ ہمیں اصلاحات کرنا ہوں گی، اصلاحات کرو یا ختم ہو جاؤ۔ اولبرگ نے کہا کہ وہ ایک ’’اصلاحاتی ورک پلان‘‘ تیار کر رہے ہیں جس کی توثیق وہ 26 سے 29 مارچ کو یاؤنڈے میں ہونے والے اجلاس کے دوران وزرائے تجارت سے کرائیں گے۔ڈبلیو ٹی او کے 166 میں سے کئی رکن ممالک پیٹر اولبرگ کے اس مؤقف سے متفق ہیں کہ ادارے میں بنیادی سطح پر اصلاحات نہایت ضروری ہیں۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ ڈبلیو ٹی او ایک نازک بلکہ وجودی موڑ پر کھڑی ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم 1995 میں قائم کی گئی تھی مگر اس کی بنیاد اس تجارتی نظام پر ہے جو دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد تشکیل پایا ۔اصلاحات کی ضرورت پر برسوں سے بات ہو رہی ہے اور 2022 کی وزارتی کانفرنس میں اس کا باضابطہ اعتراف بھی کیا گیاتاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہائوس میں دوبارہ واپسی کے بعد ان مباحث میں نمایاں شدت آئی ہے جس کی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طے شدہ تجارتی قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے دوست اور مخالف ممالک دونوں پر بھاری محصولات عائد کرنا ہے۔

پیٹر اولبرگ نے کہا کہ اب ہر کوئی اس بات کو سمجھ رہا ہے کہ فوری اقدام کی ضرورت ہے، جو اس سے پہلے نہیں تھی، اس بار ہمیں یہ کرنا ہی ہو گا۔انہوں نے زور دیا کہ محصولات کا مسئلہ ساری کہانی نہیں لیکن یہ اس فوری ضرورت کے احساس میں ضرور اضافہ کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے ہوں یا بڑے، بہت سے بلکہ تقریباً تمام ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔گزشتہ ماہ ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں ڈبلیو ٹی او کی سربراہ نگوزی اوکونجو ایویالا نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ تجارتی معاہدوں بارے ڈبلیو ٹی او کو مطلع نہیں کیا گیا حالانکہ تنظیم کے قواعد کے تحت ایسا کرنا لازم ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ معاہدے ممکنہ طور پر ڈبلیو ٹی او کے ’’پسندیدہ ترین ملک‘‘ (ایم ایف این) اصول کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ کسی ایک تجارتی شراکت دار کو دی گئی رعایت دیگر تمام ممالک تک بھی بڑھائی جائے تاکہ امتیاز سے بچا جا سکے۔امریکا نے دسمبر 2025 میں ڈبلیو ٹی او کو بتایا تھا کہ وہ اس اصول کو ’’موجودہ دور کے لیے غیر موزوں‘‘ سمجھتا ہے خصوصاً بعض ممالک کی جانب سے منصفانہ اور منڈی پر مبنی مسابقت کو فروغ نہ دینے اور ایسے معاشی نظام برقرار رکھنے کے باعث جو ڈبلیو ٹی او کے اصولوں سے بنیادی طور پر مطابقت نہیں رکھتے۔

پیٹر اولبرگ کے مطابق ایم ایف این پر امریکی مؤقف ’’ایک گیم چینجر‘‘ ہے۔انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے امریکا تنگ آ چکا ہے اور کئی دوسرے ممالک بھی خاصے مایوس ہو چکے ہیں، ہم اس طرح مزید آگے نہیں بڑھ سکتے۔پیٹر اولبرگ نے واضح کیا کہ یاؤنڈے اجلاس کا مقصد اصلاحات کو حتمی شکل دینا نہیں بلکہ اہداف اور آخری تاریخوں کے ساتھ ایک ورک پروگرام طے کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت مجھے لگتا ہے کہ اس منصوبے کے منظور ہونے کے امکانات خاصے اچھے ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈبلیو ٹی او کے نظام کے تحت زیادہ تر معاہدے مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں اور امریکا سمیت رکن ممالک کو بڑے فوائد پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز ویلیوایشن کے طریقہ کار اور ملکیت دانش جیسے معاہدے شاید زیادہ دلکش نہ ہوں مگر یہ کاروبار کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عالمی تجارت کا 72 فیصد اب بھی ڈبلیو ٹی او کے قواعد کے تحت ہو رہا ہے تاہم اس کے باوجود تنظیم کی افادیت پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں،ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ڈبلیو ٹی او میں کسی بھی معاہدے کے لیے تمام اراکین کا مکمل اتفاق رائے لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہ تو نئے قواعد اپنا سکتے ہیں اور نہ ہی پرانے قواعد میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔

اسی اتفاق رائے کے اصول نے امریکا کو نئے ججوں کی تقرری روکنے کا موقع دیا جس کے باعث 2019 سے ڈبلیو ٹی او کے تنازعات کے حل کے نظام کی اپیلٹ باڈی مفلوج ہے،اسی طرح بھارت کو بھی یہ موقع ملا کہ وہ بارہا کثیرالجہتی تجارتی معاہدوں کو ڈبلیو ٹی او کے فریم ورک میں شامل ہونے سے روکتا رہے۔پیٹر اولبرگ نے کہاکہ مایوسی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،اب پہلے سے زیادہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہمیں تبدیلی لانا ہو گی، ہمیں اصلاحات کرنا ہوں گی، ورنہ ہم غیر متعلق ہو جائیں گے۔