ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی اٹلی کے صوبے کیریمونا کی صوبائی اسمبلی کے رکن میاں آفتاب ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملک کے سفیر ہیں اور ملک کی ترقی و تعمیر میں ان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، موجودہ حکومت سمندر پا ر پاکستانیوں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاکستان میں انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملک کے سفیر ہیں اور ملک کی ترقی و تعمیر میں ان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، موجودہ حکومت سمندر پا ر پاکستانیوں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاکستان میں انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اٹلی کے صوبے کیریمونا کی صوبائی اسمبلی کے ممبر میاں آفتاب سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں ڈپٹی اسپیکر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میاں آفتاب نے ڈپٹی اسپیکر کو بتایا کہ کرونا وائرس اٹلی میں پہنچ چکا ہے اور اس وقت اٹلی کے8 شہروں میں اس وائرس کے پھیلاو¿ کی روک تھام کے پیش نظر لاک ڈاو¿ن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شہروں میں 80 ہزار سے زائد پاکستانی مقیم ہیں اور لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے ان شہروں کے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی کی حکومت ان حالات سے بڑے احسن طریقے سے نمٹ رہی ہے تاہم پاکستان کی حکومت کی جانب سے بھی ان شہروں میں مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لاک ڈاو¿ن کے باعث رابطوں میں مشکلات کی وجہ سے پاکستان میں مقیم ان کے خاندان والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی اسپیکر کو اٹلی میں قائم پاکستانی سفارتخانے کو اٹلی میں مقیم پاکستانیوں سے رابطہ کرکے صورتحال کی رپورٹ پیش کرنے اور سفارتخانے میں ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی ہدایات دینے کے لیے کہا تاکہ ان کے خاندان والوں کو بروقت معلومات مل سکیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ حکومت نہ صرف اٹلی بلکہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے میاں آفتاب کو یقین دلایا کہ وہ اٹلی میں تعینات پاکستان کے سفیر سے بات کرکے ا±ن کی طرف سے پیش کیے گئے مطالبات پر فوری طور پر عمل درآمد کے لیے کہیں گے اور اس سلسلے میں وہ وزارت خارجہ سے بھی بات کریں گے۔