کوئٹہ۔ 12دسمبر (اے پی پی)ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے مثبت طرز حکمرانی کی بدولت صرف پندرہ مہینوں میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا 70فیصد خسارہ ختم ہو چکا ہے،عالمی ادارے ملکی معیشت کی بحالی کی نوید سنا رہے ہیں اور کراچی سٹاک ایکسچینج بہتری کی جانب گامزن ہے، نوجوان پاکستان کا مستقبل اور اثاثہ ہیں، بلوچستان کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی …
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا کوئٹہ بیوٹمز یونیورسٹی میں کامیاب جوان پروگرام کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 12دسمبر (اے پی پی)ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے مثبت طرز حکمرانی کی بدولت صرف پندرہ مہینوں میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا 70فیصد خسارہ ختم ہو چکا ہے،عالمی ادارے ملکی معیشت کی بحالی کی نوید سنا رہے ہیں اور کراچی سٹاک ایکسچینج بہتری کی جانب گامزن ہے، نوجوان پاکستان کا مستقبل اور اثاثہ ہیں، بلوچستان کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور ان کا مستقبل روشن ہیں، نوجوان وزیر اعظم عمران خان کی طاقت اور پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، کامیاب جوان پروگرام کے تحت یوتھ انٹر پر نیورشپ سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا جس کا بنیادی تصورہنر سے کاروبار تک ہے ”کامیاب جوان” پروگرام کے لیے 100ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، نئے کاروبار کا آغاز کرنا ہویا چلتے ہوئے کاروبار کووسط دینی ہو اگر آپ پاکستانی ہیں جوان ہیں اور بے روزگار ہیں تو آپ وزیراعظم عمران خان کے پروگرام ”کامیاب جوان” سے استفادہ کرکے روزگار حاصل کرسکتے ہیں، پاکستان کی 64 فیصد آبادی30 سال کی عمر سے کم افراد پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد پاکستانیوں کی عمریں 15اور30 سال کے درمیان ہیں۔ سرکاری معیار کے مطابق تقریباًساڑے چھ کروڑ پاکستانی جوانوں کی تعریف پر پورا اترتے ہیں ، ماہرین جوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو کسی بھی ملک کے لیے ایک اثاثہ قراردیتے ہیںجس اس ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ،کامیاب جوان پروگرام میں اس عزم کا اظہا کیا گیا ہے کہ اپنے ہنر کو کام میں لائیں ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹھائیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کے روز بیوٹمز یونیورسٹی کوئٹہ میں کامیاب جوان پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نوجوان گھر بیٹھے آن لائن درخواست جمع کراسکتے ہیں ۔ دراخواستیں فوری طور پر بینکوں تک پہنچیں گی۔ انہوں نے کہا کہ10 لاکھ نوجوان برائے راست پروگرام سے مستفید ہوسکیں گے اور خفیہ سکور کارڈ کے تحت درخواستیں کی پڑتال بھی عمل میں لائے جائے گی ،کسی بھی درخواست کی منظوری یا اسے مسترد کرنے کا 30سے 45روز تک فیصلہ کیا جائے گا۔نوجوان اپنی جانب سے تیار کردہ کاروباری منصوبے کی فزیبیلٹی جمع کرواسکیں گے یا ان کی معاونت کے لیے فراہم کی جانے والی فزیبلٹی میں سے کسی ایک کو استعمال کرسکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو انتہائی کم انٹرسٹ ریٹ اور آسان شرائط پر قرضہ جات کی سہولت فراہم کی جارہی ہے جو کاروباری مواقعوں میں اضافے کا باعث ہوگی ۔ اس پروگرام سے چھوٹے اور درمیان درجے کے صنعتوں کے لیے دستیاب مواقعوں میں نمایاں اضافہ ہوگا،کامیاب جوان کا پہلا مرحلہ 2022تک جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے لیے ملکی غیر ملکی اور بین الاقوامی ادارے اور دوست ممالک امداد فراہم کررہے ہیں، ان قرضوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی حصول کے لیے درخواست دہندہ کو مختلف دفاتر کے چکر کاٹنا نہیں پڑیں گے ، ویب سائٹ پر موجود ایک نہایت ہی آسان فارم پرکرنا ہوگا جس میں ذاتی معلومات کے علاوہ قرضے کی رقم سے شروع ہونے والے مجوزہ کاروبار یا روزگار کی تفصیلات دینا ہوگی ۔ قاسم خان سوری نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے لیے عمر کی حد 21سے 45سال تک رکھی ہے شناختی کارڈ کی شرط لازم قرار دی گئی ہے ۔








