ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز کا تین روزہ سائنس کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں پاکستان میں مزیدبین الاقوامی کا نفرنسز منعقد ہونی چاہئیں جبکہ ہم نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے متعدد واقدامات کئے ہیں جن میں پاکستان کلائیمیٹ چینج ایکٹ 2017 بھی شامل ہے انہوں نے یہ بات موسمیاتی تبدیلیوں کی پالیسی بارے منعقدہ 3 …

اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں پاکستان میں مزیدبین الاقوامی کا نفرنسز منعقد ہونی چاہئیں جبکہ ہم نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے متعدد واقدامات کئے ہیں جن میں پاکستان کلائیمیٹ چینج ایکٹ 2017 بھی شامل ہے انہوں نے یہ بات موسمیاتی تبدیلیوں کی پالیسی بارے منعقدہ 3 روزہ سائنس کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مختصر مدتی نہیں بلکہ دیرینہ مسئلہ ہے جو چند دنوں مہینوں یا سالوں میںحل نہیں ہو سکتا ۔ اس دنیا میں ہمارے بچوں کے مستقبل کا تعین موسمیاتی تبدیلی نے ہی کرنا ہے انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے اس سلسلے میں متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2017 کی منظوری بھی شامل ہے. ہمیں توقع ہے کہ قومی موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کاپہلا اجلاس ایک مہینے میں ہوگا. ہم اس ایکٹ پر عمل درآمد کرنے کے خواہاں ہیں. انہوں نے کچھ دیگر اقدامات جیسے جنگلات بارے نئی پالیسی، وزیر اعظم گرین پاکستان پروگرام، اور آستولا جزائر کے اعلامیہ کے تحت پاکستان کے پہلے میرین تحفظ یافتہ علاقے کے بارے میں بھی بتایا ۔ سینیٹر مشاہداللہ نے مزید کہا کہ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کے محکمہ جنگلی حیات کو پاکستان کی پہلی وائلڈ لائف پالیسی تیار کر نے کی ہدایت بھی کر دی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے لئے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مطالعاتی مرکز اور دیگر تمام شراکت داروں کی مضبوطی کے لئے اقدامات کیے ہیں اور توقع ہے کہ پاکستان میں ایسی کئی کانفرنسوں کا انعقاد ہو گا ۔

Leave a Reply