ڈھاکہ۔15اگست (اے پی پی):بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی واٹر سپلائی اینڈ سیوریج اتھارٹی (واسا) کے منیجنگ ڈائریکٹر تقسم اے خان نے بھی ادارے کے ملازمین کی طرف سے اپنے خلاف احتجاج کے بعد عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ان کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا قریبی ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنا استعفا نئی حکومت کو آن لائن جمع کروایا …
ڈھاکہ کی واٹر سپلائی اینڈ سیوریج اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ملازمین کے احتجاج کے بعد مستعفی

مزید خبریں
ڈھاکہ۔15اگست (اے پی پی):بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی واٹر سپلائی اینڈ سیوریج اتھارٹی (واسا) کے منیجنگ ڈائریکٹر تقسم اے خان نے بھی ادارے کے ملازمین کی طرف سے اپنے خلاف احتجاج کے بعد عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ان کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا قریبی ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنا استعفا نئی حکومت کو آن لائن جمع کروایا جس میں انہوں نے اپنی صحت کی خرابی کو عہدے سے مستعفی ہونے کی وجہ بتایا ہے۔
تقسیم اے خان کو پہلی بار 2009 میں ڈھاکہ واسا کے ایم ڈی کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی مدت ملازمت میں کئی بار توسیع کی گئی، جس میں تازہ ترین توسیع تین سال کی تھی جو انہیں گزشتہ سال اگست میں دی گئی تھی ۔ واسا ڈھاکا کے ایم ڈی کی حیثیت سے ان کی تازہ ترین ماہانہ تنخواہ 6 لاکھ 25 ہزار روپے تھی ۔بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے متعدد الزامات کے باوجود ان کے اسی عہدے پر طویل عرصے تک رہنے پر سوالات اٹھائے گئے۔واسا کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے مدت کے دوران ڈھاکہ میں 2009 سے پانی کی قیمت 16 گنا بڑھ چکی ہے۔وہ 5 اگست کو شیخ حسینہ کے استعفیٰ کے بعد اپنے دفتر نہیں آئے ۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعدڈھاکہ واسا کے ملازمین نے ان کے فوری استعفیٰ اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے بھی کئے
۔یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ ابھی تک ملک میں مقیم ہیں یا ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ تقسیم اے خان اور ان کے بیوی اور بچوں کے پاس امریکی شہریت ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ شاید امریکا چلے گئے ہیں۔فی الحال ڈھاکہ واسا کی مختلف پراجیکٹس میں غیر ملکی قرضوں کی مالیت 19,000 کروڑ روپے ہے۔ مختلف منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر اور مکمل شدہ پراجیکٹس کو چلانے میں ناکامی کی وجہ سے ادارے کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔مزید برآں تقسیم اے خان اینٹی کرپشن کمیشن کے زیرِ تفتیش بھی ہیں۔








