ڈیجیٹل ادائیگیوں کا محفوظ اور جاذبِ لاگت نظام تشکیل دینا اولین ترجیح ہے،گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام مزید مضبوط ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل بینک لمیٹڈ کی جانب سے ماسٹر کارڈ اور پاکستان کی قومی ادائیگی سکیم ’’پے پاک ‘‘ کے اشتراک سے نیا co-badged کارڈ متعارف کرانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب ملک …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام مزید مضبوط ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل بینک لمیٹڈ کی جانب سے ماسٹر کارڈ اور پاکستان کی قومی ادائیگی سکیم ’’پے پاک ‘‘ کے اشتراک سے نیا co-badged کارڈ متعارف کرانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو محفوظ، مستعد اور خود انحصار بنانے کے سفر میں سنگِ میل ثابت ہو گی۔

شراکت داروں کو مبارکباد دیتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ اب صارفین بین الاقوامی اور ای کامرس ادائیگیاں بلاتعطل انداز میں کر سکیں گے جبکہ ملکی ٹرانزیکشنز کا پاکستان کے اندر تصفیہ ممکن ہو سکے گا جس سے کارکردگی میں اضافہ اور بیرونی نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے نئے co-badged card کو ’فائدہ مند‘ مالی پروڈکٹ قرار دیا جس سے صارفین کو سہولت ملنے کے علاوہ ادائیگیوں کا قومی انفراسٹرکچر مزید مضبوط ہو گا۔

جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں co-badging بڑھ رہی ہے۔گزشتہ ماہ ’پے پاک ‘اور ’یونین پے‘ کا Co-badged کارڈ متعارف کرانے کے بعد آج اس کارڈ کا اجرا ء بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے جس میں پاکستان کی ملکی ادائیگی سکیم ، ادائیگیوں کے بڑے عالمی اداروں کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مزید بینک بھی ایسے ماڈلز اختیار کریں گے کیونکہ ایسے اشتراک مضبوط قدر کے منصوبوں کی پیشکش کرتے ہیں۔

2016 ء میں ’پے پاک‘ کے آغاز کے بعد سے اس کے ارتقائی مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے گورنر نے یاد دلایا کہ اسےوسیع ہوتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے لئے سستی، محفوظ اور مقامی ادائیگی کی سہولت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔ فی الحال زیرِ گردش 53 ملین ڈیبٹ کارڈز میں سے 25فیصد سے زائد ’پے پاک‘ پرہیں تاہم اس کے استعمال کی شرح 6فیصد پر برقرار ہے۔ انہوں نے مختلف چیلنجوں کو اس فرق کی وجہ قرار دیا جن میں ای کامرس اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر محدود قبولیت، تشہیر کی معمولی کوششیں اور ’پے پاک‘ کو کم قدر والا کارڈ سمجھا جانا شامل ہیں۔

گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے ’پے پاک‘ کو ایک پائیدار اور مسابقتی نظام بنانے کے لئے اِن رکاوٹوں کو دور کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے حالیہ اقدامات کی تعریف کی جن میں تشہیری مہمات، co-badging کے انتظامات اور ای کامرس گیٹ ویز کے ساتھ اشتراک شامل ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان اقدامات سے ’پے پاک‘ کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے ون لنک پر بھی زور دیا کہ وہ طویل مدتی حکمت عملی اپنائے جو ٹیکنالوجی، فراڈ کی شناخت، سائبر سکیورٹی، تنازعات کے حل اور تاجروں اور صارفین کو مراعات دینے کے لئے سرمایہ کاری پر مرکوز ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اعتماد سازی اور قومی ادائیگی کی سکیم کو اپنانے کی رفتار بڑھانے کے لئے ناگزیر ہیں۔

مضبوط اور جامع ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لئے ایکوسسٹم کی تشکیل کی خاطر سٹیٹ بینک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جمیل احمد نے ایسے ضوابطی فریم ورک کی اہمیت کو اجاگر کیا جو جدت طرازی، مسابقت، اور صارفین کے تحفظ کو فروغ دیتا ہو۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں (سٹیک ہولڈرز)، بشمول ادائیگیوں کی عالمی سکیموں کے لئے یکساں مواقع یقینی بنانے کے حوالے سے بھی مرکزی بینک کا عزم دہرایا کیونکہ پاکستان ادائیگیوں کے محفوظ، ہم آہنگ اور خود کفیل ڈھانچے کی جانب گامزن ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ آج co-badging کے لئے یہ اقدام باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کی طاقت کی ایک مثال ہے جس سے صارفین کے انتخاب کو بڑھانے، ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینے اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی نمو میں تیزی لانے اور مالی طور پر ایک جدید اور شمولیتی پاکستان کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی غرض سے مزید مالی ادارے اسی طرح کا تعاون جاری رکھیں گے۔

 

مزید خبریں