ابوظہبی۔10دسمبر (اے پی پی):کامیڈیا کانفرنس اور نمائش بریج کے نائب چیئرمین ڈاکٹر جمال محمد عبید الکعبی کی زیر صدارت ’’غلط معلومات کے دور میں پرائیویسی، خطرات اور استقامت‘‘ کے عنوان سے ایک وسیع موضوعاتی نشست منعقد ہوئی جس میں اسٹریٹجک ایڈوائزر رچرڈ اتیاس اور بانی و صدر سیسیلیا اتیاس فاؤنڈیشن فار ویمن سیسیلیا اتیاس نے شرکت کی۔امارات نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق مکالمے میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی، …
ڈیجیٹل دور میں نجی زندگی، غلط معلومات اور انسانی وقار کے تحفظ پر ’’بریج سمٹ‘‘ میں جامع مکالمہ
ابوظہبی۔10دسمبر (اے پی پی):کامیڈیا کانفرنس اور نمائش بریج کے نائب چیئرمین ڈاکٹر جمال محمد عبید الکعبی کی زیر صدارت ’’غلط معلومات کے دور میں پرائیویسی، خطرات اور استقامت‘‘ کے عنوان سے ایک وسیع موضوعاتی نشست منعقد ہوئی جس میں اسٹریٹجک ایڈوائزر رچرڈ اتیاس اور بانی و صدر سیسیلیا اتیاس فاؤنڈیشن فار ویمن سیسیلیا اتیاس نے شرکت کی۔امارات نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق مکالمے میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی، سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات اور غلط معلومات کے پھیلاؤ جیسے ڈیجیٹل دور کے حقائق پر کھل کر گفتگو کی گئی۔ شرکا نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ایسے ماحول میں عوامی شخصیات اور عام شہری کس طرح سچ، وقار اور اپنی ذاتی سلامتی کا تحفظ کر سکتے ہیں جہاں منظرِ عام پر آنا حقیقی نتائج لے کر آتا ہے۔
رچرڈ اتیاس نے اپنی گفتگو میں انجینئرنگ کے تعلیمی پس منظر سے لے کر عالمی مکالمہ پلیٹ فارمز کی تشکیل تک اپنے سفر کا ذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ میں نے عملی پل بنانے سے لوگوں کے درمیان پل بنانے کی طرف سفر کیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی رواداری، ثقافتی تنوع اور بقائے باہمی کی فضا کو اپنی پیشہ ورانہ سوچ کے لیے بڑی تحریک قرار دیا۔انہوں نے امارات کو اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی قیادت وژنری ہے جو خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سوشل میڈیا میں عدم دلچسپی کے باوجود انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارم علم کے تبادلے کا ذریعہ بن سکتے ہیں البتہ گمراہ کن مواد کی بہتات بھی ایک حقیقت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتاری کے پیش نظر ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی انسان پر نہیں بلکہ انسان ٹیکنالوجی پر حاوی رہے۔سیسیلیا اتیاس نے گفتگو میں خاندانی زندگی، بچوں اور میڈیا کے منفی رویوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شہرت کے باعث نجی زندگی کو محفوظ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے جبکہ غلط خبریں عوامی شخصیات کے لیے مستقل بوجھ بن جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عام کام، جیسے بچوں کے ساتھ خریداری بھی میڈیا کی موجودگی کے باعث مشکل ہو جاتے ہیں۔سیسیلیا نے ایسے میڈیا کرداروں پر تنقید کی جو سچائی سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور کہا کہ افواہوں کا بہترین جواب انہیں نظر انداز کرنا ہے۔متحدہ عرب امارات میں گزارے گئے برسوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ملک کو اپنی زندگی کا پرامن اور محفوظ دور قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جہاں مکمل غیر جانب داری اور نجی زندگی کا احترام ملتا ہے، متحدہ عرب امارات میں ہمیں کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔انہوں نے خطے کے لوگوں کی گرمجوشی کو بھی غیر معمولی قرار دیا۔
رچرڈ اتیاس نے بھی یو اے ای کو عالمی میڈیا اور تخلیقی صلاحیتوں کے اجتماع کے لیے بہترین جگہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ وہ ملک ہے جہاں لوگ خواب بھی دیکھتے ہیں اور انہیں حقیقت بھی بنا کر دکھاتے ہیں۔مکالمے کے اختتام پر ڈاکٹر جمال الکعبی نے دونوں مہمانوں سے سوال کیا کہ ان کے نزدیک شہرت اہم ہے یا وراثت؟رچرڈ اتیاس نے کہاکہ شہرت لندن کے موسم کی طرح ہے، ہر پندرہ منٹ بعد بدل جاتی ہے۔ اصل چیز وراثت ہے جو ہمیشہ قائم رہتی ہے۔سیسیلیا نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی پہچان اُن ٹھوس خدمات سے ہو جو نسلوں تک اثر رکھیں۔یہ نشست بریج سمٹ کے 300 سے زائد سیشنز کے پروگرام کا حصہ ہے۔









