ڈیجیٹل قانونی پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت کا انضمام انصاف تک رسائی کو بہتر بنا سکتا ہے ، بیرسٹر نوید خان

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):قانونی ٹیکنالوجی کے ماہر بیرسٹر نوید خان نے کہا ہے کہ قانونی پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا انضمام قانونی چارہ جوئی کے حوالہ سے عوام کے خوف کو کم کرنے اور عدالتی نظام پر اعتماد کو مضبوط بنا کر انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اتوار کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر …

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):قانونی ٹیکنالوجی کے ماہر بیرسٹر نوید خان نے کہا ہے کہ قانونی پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا انضمام قانونی چارہ جوئی کے حوالہ سے عوام کے خوف کو کم کرنے اور عدالتی نظام پر اعتماد کو مضبوط بنا کر انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اتوار کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر نوید خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی متعدد آن لائن پلیٹ فارمز جن میں اے آئی اٹارنی، پاکستان لاء بوٹ، ڈیجیلائیر اور لیکسا شامل ہیں، عوام کو ان کے قانونی حقوق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم صارفین کو قانونی دستاویزات کا مسودہ تیار کرنے اور موجودہ دستاویزات کا جائزہ لینے میں بھی مدد فراہم کر رہے ہیں جس سے روایتی اور وقت طلب عمل پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔askwakeel.pk کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بیرسٹر نوید خان نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم 2,000 روپے کی معمولی فیس پر براہ راست انسانی بات چیت کے ساتھ تفصیلی قانونی مشاورت کی پیشکش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام شہریوں اور معتبر قانونی ماہرین کے درمیان فاصلوں کو ختم کر رہا ہے، جس سے پیشہ ورانہ قانونی مشورے عوام کے لیے زیادہ قابل رسائی اور سستی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خواتین، بزرگ شہری اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد آن لائن قانونی خدمات سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں جن میں سے اکثر کی سمارٹ فون تک رسائی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر لوگوں کو ڈیجیٹل ذرائع سے ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جائے تو انصاف کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔مصنوعی ذہانت کے کردار پر انہوں نے واضح کیا کہ اے آئی کو انسانی فیصلے کے متبادل کے بجائے ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی دستاویزات، مسودے اور ابتدائی کیس کی تشخیص میں مدد کر سکتا ہے لیکن انسانی نگرانی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ موثر نظام انصاف نہ صرف شہریوں کو فائدہ دے گا بلکہ وکلاء کے لیے مزید مواقع پیدا کرے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کار تنازعات کے مؤثر حل اور معاہدے کے نفاذ کی تلاش میں ہیں اور اس کے لیے ایک جدید عدالتی نظام معاشی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگر طریقہ کار کو آسان بنایا جائے اور ٹیکنالوجی کو اپنا لیا جائے، تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان زیادہ قابل رسائی اور قابل اعتماد انصاف کا نظام بنا سکتا ہے۔