چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل یوتھ ہبز قائم کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید تربیت، روزگار کے مواقع، کاروباری صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔
ڈیجیٹل یوتھ ہبز کے قیام سے نوجوانوں کو جدید تربیت، روزگار کے مواقع، کاروباری صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکےگا۔چئیرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان
راولپنڈی ۔7جولائی (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک بھر میں ڈیجیٹل یوتھ ہبز قائم کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید تربیت، روزگار کے بہتر مواقع، کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ہی ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے درمیان موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت کے فروغ، مونگ پھلی کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور دیہی آبادی کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔اس حوالے سے بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے بطور مہمانِ خصوصی جبکہ پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بریچ نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی۔ وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے رجسٹرار، ڈینز، ڈائریکٹرز، فیکلٹی ممبران اور یونیورسٹی کے سینئر حکام کے ہمراہ معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ حال ہی میں چین کے دورے کے دوران ممتاز چینی زرعی جامعات کے ساتھ تعلیمی تعاون اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان روابط کے نتیجے میں چینی زرعی جامعات اور پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے درمیان زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں اور جدت پر مبنی منصوبوں میں مؤثر تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج قومی وقار، استحکام اور دفاع کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت میں عالمی سطح پر بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں کا پاکستان پر اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف بین الاقوامی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر نادر گل بریچ نے اس شراکت داری کو پاکستان میں زرعی اور دیہی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے تحت شراکت داری کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ہم آہنگ مونگ پھلی کے بہتر بیجوں کی تیاری، جدید پیداواری نظام کا فروغ، ویلیو ایڈیشن، دیہی کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی، ڈیجیٹل زرعی مشاورتی خدمات کی فراہمی اور کسانوں کی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق سے مارکیٹ تک مربوط شراکت داری کا یہ ماڈل دیہی معیشت کی مضبوطی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے میں اہم کردار ادا کرے گا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے اس اہم شراکت داری کا خیر مقدم کرتے ہوئے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام، چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور تمام شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی بنیادوں پر قائم یہ اشتراک پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کی خوشحالی اور قومی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی نوجوان دوست پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں، کاروباری مواقع، سکالرشپس اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے جاری اقدامات نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی جدید ترین لیبارٹریز، اعلیٰ تحقیقی سہولیات، جدید سائنسی آلات اور انتہائی قابل اساتذہ سے مزین ایک ممتاز تحقیقی ادارہ ہے، جو قومی سطح کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں مکمل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی ایسی جدید تحقیقی اختراعات متعارف کراتی رہے گی جو براہِ راست کسانوں، زرعی شعبے اور قومی غذائی تحفظ کو فائدہ پہنچائیں۔تقریب کے اختتام پر پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے درمیاں مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے۔ شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری جامعات اور ترقیاتی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ایک ایسی مثال ثابت ہوگی جو پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔









