ڈیڑھ لاکھ ایکڑ پر سویابین کی کاشت سے پولٹری فیڈ کی ضروریات کا 30 سے 40فیصد حاصل کیا جا سکے گا،ڈاکٹر اقرار احمدخان

لاہور۔ 19 اپریل (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ سال ایک ارب ڈالر کا سویابین اور 4ارب ڈالر سے زائدکا خوردنی تیل امپورٹ کیا ہے جو زرعی ملک کیلئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں تاہم جامعہ زرعیہ فیصل آباد نے سویابین کے فروغ کیلئے کاشتکاروں کی دہلیز پرایک ہزار سے زائد نمائشی کھیت لگائے ہیں اور اگلے سال …

لاہور۔ 19 اپریل (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ سال ایک ارب ڈالر کا سویابین اور 4ارب ڈالر سے زائدکا خوردنی تیل امپورٹ کیا ہے جو زرعی ملک کیلئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں تاہم جامعہ زرعیہ فیصل آباد نے سویابین کے فروغ کیلئے کاشتکاروں کی دہلیز پرایک ہزار سے زائد نمائشی کھیت لگائے ہیں اور اگلے سال ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زرعی اراضی پر سویابین کی کاشت کو کسانوں کی دہلیز تک لے جانے کاپروگرام ہے جبکہ مذکورہ ڈیڑھ لاکھ ایکڑ پر سویابین کی کاشت سے پولٹری فیڈ کی ضروریات کا 30 سے 40فیصد حاصل کیا جا سکے گانیزجامعہ زرعیہ نے سویابین کی بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل8 اقسام متعارف کروائی ہیں جبکہ مزید8 اقسام کی تیاری پر تیزی سے کام جاری ہے۔

فیکلٹی آف اینیمل ہسبنڈری، فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز اور ورلڈ پولٹری سائنس ایسوسی ایشن کے زیراہتمام جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں منعقدہ بین الاقوامی لیئرکوالٹی کانفرنس 2024سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ پولٹری انڈسٹری ملک میں پروٹین اورگوشت کی فراہمی کے حوالے سے ایک بڑا ذریعہ ہے تاہم پولٹری انڈسٹری کو درپیش مسائل بشمول لاگت میں کمی، مقامی سطح پر فیڈ کی فراہمی اور پولٹری بیماریوں پر قابو پانے کیلئے مشترکہ کاوشیں عمل میں لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ڈین اینیمل ہسبنڈری ڈاکٹر قمربلال نے کہا کہ مرغیوں کی صحت اور ہلاکت کے معاملے پر سائنسی بنیادوں پر مزید کام کرنا ہو گا تاکہ اس چیلنج سے نبردآزما ہوا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پولٹری پاکستان کی دوسری بڑی انڈسٹری کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے اور اکیڈیمیا انڈسٹری لنکیجز کو استوار کر کے اس کے مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم ہوں گے۔ ورلڈ پولٹری سائنس ایسوسی ایشن کے صدر حسین احمد نے کہا کہ لوکل سویابین کی تیاری ایک خوش آئند قدم ہے جس میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری انڈسٹری کو درپیش بیماریوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر مسائل کے حوالے سے ماہرین کو سائنسی بنیادوں پر حل فراہم کرنے کیلئے کاوشیں تیز کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پولٹری ایسوسی ایشن اس انڈسٹری کے فروغ کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈین ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر فرزانہ رضوی نے پولٹری انڈسٹری کی گروتھ کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آنیوالے سالوں میں بھی یہ نہ صرف معیشت کو بہتر کرنے بلکہ اس کیساتھ ساتھ خوراک کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی پولٹری انڈسٹری کو پروان چڑھانے کیلئے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر کاشف سلیمی نے کہا کہ اس لیئر کانفرنس میں پولٹری کی بہتری کیلئے مباحثے پیش کئے گئے ہیں تاکہ انڈسٹری اکیڈیمیا تعلقات کو مضبوط کرتے ہوئے پولٹری سیکٹرکو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔