کاروبار کرنے والی خواتین معیشت اور روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں،عالمی بینک

عالمی بینک نے کہا ہے کہ کاروباری کرنے والی خواتین روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی تیز کرنے کا ایک طاقتور مگر اب تک کم استعمال ہونے والا ذریعہ ہے، انہیں درپیش مالی اور سماجی رکاوٹیں دور کرنے سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

واشنگٹن۔21اپریل (اے پی پی):عالمی بینک نے کہا ہے کہ کاروباری کرنے والی خواتین روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی تیز کرنے کا ایک طاقتور مگر اب تک کم استعمال ہونے والا ذریعہ ہے، انہیں درپیش مالی اور سماجی رکاوٹیں دور کرنے سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ یہ بات کاروبار کرنے والی خواتین بارے عالمی بینک کی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں کہی گئی ۔رپورٹ کے مطابق چھوٹے اوردرمیانے درجے کے کاروبار سے منسلک خواتین روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور پیداواریت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، تاہم خواتین سے منسلک کاروباروں کو مالی وسائل تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کی ملکیت والے کاروباروں میں خواتین ملازمین کی شرح نمایاں ہے اور ایسے کاروبار خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاہم ان کاروباروں کو قرض، سرمایہ کاری اور جدید مالیاتی سہولیات تک رسائی میں ابھی بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔رپورٹ میں خواتین کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے خواتین کی ضروریات کے مطابق مالیاتی مصنوعات کی تیاری اورڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی مؤثر فراہمی کی حکمت عملی تجویز کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق موبائل بینکنگ اور ڈیجیٹل فنانس جیسے جدید طریقے پاکستان میں خواتین کاروباری افراد کے لیے سرمایہ تک رسائی کو آسان بنا سکتے ہیں جس سے کاروبار میں توسیع اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ویمن انٹرپرینیورز فنانس انیشی ایٹو کے تحت عالمی سطح پر خواتین کاروباری افراد کے لیے تحقیق اور پالیسی سازی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ عالمی بینک نے 2030 تک مزید 8 کروڑ خواتین اور خواتین کی ملکیت والے کاروباروں کو سرمایہ تک رسائی فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔