لاہور۔18جنوری (اے پی پی):کاشتکار کپاس کی آئندہ فصل کوضرررساں کیڑوں سے بچانے کے لئے آف سیزن مینجمنٹ پر عمل کریں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کاکہنا ہے کہ کپاس ہماری ایک اہم فصل اور اس کی مجموعی پیداوارکا تقریبا 70 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے، کپاس کی اچھی و بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے مختلف عوامل اور مراحل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کپاس کی فصل پر …
کاشتکار کپاس کی فصل کوضرررساں کیڑوں سے بچانے کیلئے آف سیزن مینجمنٹ پر عمل کریں،ترجمان محکمہ زراعت

مزید خبریں
لاہور۔18جنوری (اے پی پی):کاشتکار کپاس کی آئندہ فصل کوضرررساں کیڑوں سے بچانے کے لئے آف سیزن مینجمنٹ پر عمل کریں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کاکہنا ہے کہ کپاس ہماری ایک اہم فصل اور اس کی مجموعی پیداوارکا تقریبا 70 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے، کپاس کی اچھی و بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے مختلف عوامل اور مراحل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کے حملہ کے پیش نظر موسم سرما کے دوران موثر حکمت عملی اپنا کر آئندہ کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔
گلابی سنڈی دسمبر میں سرمائی نیند کی حالت میں چلی جاتی ہے اور موسم سرما جڑے ہوئے بیجوں،چھڑیوں پر بچے کھچے ٹینڈوں اور جننگ فیکٹریوں کے کچرے میں خوابیدہ حالت میں گزارتی ہے۔ مناسب درجہ حرارت میسر آنے پر پروانے بننا شروع ہو جاتے ہیں جو آئندہ کپاس کی فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔لہذاکاشتکار موسم سرما کے دوران درج ذیل حکمت عملی اپنا کرآئندہ آنے والی کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے نقصان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
چنائی مکمل ہونے پر ان کھلے اورمتاثرہ ٹینڈے اچھی طرح توڑ لیے جائیں بعد ازاں ٹینڈوں کو دھوپ میں پھیلاکر پوری طرح کھلنے کے بعد پھٹی کو الگ اور بچے ہوئے مواد کوتلف کر دیں کیونکہ ایسے80 فیصد ٹینڈوں میں سرمائی نیند سوئی ہوئی گلابی سنڈی موجود ہوتی ہے۔
آخری چنائی کے بعد کھیتوں میں بھیڑبکریاں چرائیں تاکہ کچے ٹینڈے جانوروں کی خوراک بن سکیں اور گلابی سنڈی کے لاروے کا خاتمہ ہو سکے۔جن کھیتوں میں کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کا حملہ ہوا ہو وہاں گرے ہوئے ٹینڈے تلف کرنے کے بعد کھیتوں کو روٹاویٹ کر دیاجائے تا کہ بچے ہوئے مواد میں سے موجود سنڈیا ں تلف ہو جائیں۔
کپاس کی چھڑیاں 31 جنوری تک کاٹ کر استعمال کر لی جائیں اورڈھیرلگاتے وقت چھوٹے گٹھوں کی حالت میں اس طرح رکھیں کہ چھڑیوں کے مڈھ نچلی طرف ہوں تاکہ دھوپ کی وجہ سے ان چھڑیوں میں موجود سنڈیاں اور لارواتلف ہو جائیں جبکہ مناسب وقفہ سے چھڑیوں کی ڈھیریوں کو الٹ پلٹ کرتے ر ہیں۔
اسی طرح کپاس کی چھڑیوں کی کٹائی زمین کی سطح کے برابر یا گہرائی سے کی جائے اور کپاس کے کھیتوں میں گرے ہوئے ٹینڈوں، مڈھوں اور جڑی بوٹیوں کو روٹاویٹر یا مٹی پلٹنے والا ہل چلا کر زمین میں ملا دیا جائے۔ جننگ فیکٹریوں میں موجود ٹینڈے، بیج اور کچرا وغیرہ اکٹھاکر کے تلف کر دیں تاکہ گلابی سنڈی کے لاروے کی تلفی یقینی بنائی جا سکے۔








