پاکستان میں او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ’’ترقی پذیر ممالک میں پائیدار معدنیات اور مائننگ انڈسٹری کے کردار اور امکانات‘‘ کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا آغاز ہوگیا
کامسٹیک میں پائیدار معدنیات اور مائننگ پر دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):پاکستان میں او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ’’ترقی پذیر ممالک میں پائیدار معدنیات اور مائننگ انڈسٹری کے کردار اور امکانات‘‘ کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا آغاز ہوگیا۔ سمپوزیم میں پاکستان سمیت او آئی سی رکن ممالک کے سائنسدان، انجینئرز، ماہرینِ معدنیات، پالیسی ساز، محققین، صنعتکار، جامعات کے نمائندگان اور طلبا شرکت کر رہے ہیں جبکہ چین، ملائیشیا، ترکیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، سعودی عرب اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی شریک ہیں۔ سمپوزیم کا مقصد معدنی وسائل کے پائیدار استعمال، جدید مائننگ ٹیکنالوجی، معدنیات میں ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، استعدادِ کار بڑھانے اور او آئی سی ممالک کے درمیان سائنسی و صنعتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ او آئی سی ممالک قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہونے کے باوجود جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور صنعتی استعداد کی کمی کے باعث ان وسائل سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔انہوں نے کہا کہ تانبے، لیتھیم اور نایاب معدنیات سمیت اہم معدنی وسائل کی عالمی طلب میں تیزی سے اضافہ ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک تاریخی موقع ہے جبکہ معدنی شعبے کی ترقی کیلئے انسانی وسائل، انجینئرنگ ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، جدید تحقیق اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ناگزیر ہیں۔ اس موقع نیشنل ووکیشنل و ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی برانچ پر نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل (این اے سی) کے چیئرمین انجینئر محمد نجیب ہارون نے مسلم دنیا میں سائنس، ٹیکنالوجی اور فنی تعاون کے فروغ کیلئے کامسٹیک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو اپنے قدرتی وسائل سے مؤثر فائدہ اٹھانے کیلئے جدید مہارتوں اور مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہوگا۔ ایبٹ آباد یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر عرفان خان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ پائیدار مائننگ، جدید جیولوجیکل تحقیق اور معدنیات میں ویلیو ایڈیشن معاشی ترقی کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط، جدید تکنیکی تربیت اور نئی ٹیکنالوجیز اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کامسٹیک کے مشیر برائے انجینئرنگ سائنسز و ٹیکنالوجی ڈاکٹر ناصر محمود خان نے سمپوزیم کے اغراض و مقاصد اور مختلف سیشنز پر بریفنگ دی۔ افتتاحی اجلاس میں نائیجیریا، ایتھوپیا، تاجکستان، سوڈان اور ترکمانستان کے سفارتکاروں، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، ریکٹرز، اساتذہ، طلبا اور صنعتی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔سمپوزیم کے مختلف سیشنز میں جدید مائننگ ٹیکنالوجیز، معدنیات کی پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، ماحولیاتی تحفظ، ڈیجیٹل مائننگ، آٹومیشن اور بین الاقوامی تعاون سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی جائے گی۔








