اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی 22ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے فرنٹیئرز آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (FIT 2025) پیر کے روز کامسٹیک سیکرٹریٹ میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔دو روزہ کانفرنس کو پاکستان می آئی سی ٹی تحقیق کے ممتاز ترین فورم کی حیثیت حاصل ہے، جس میں دنیا بھر سے محققین اور ٹیکنالوجی ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کا موضوع ’’ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت‘‘ تھا، …
کامسیٹس یونیورسٹی کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کانفرنس اسلام آباد میں اختتام پذیرہوگئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی 22ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے فرنٹیئرز آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (FIT 2025) پیر کے روز کامسٹیک سیکرٹریٹ میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔دو روزہ کانفرنس کو پاکستان می آئی سی ٹی تحقیق کے ممتاز ترین فورم کی حیثیت حاصل ہے، جس میں دنیا بھر سے محققین اور ٹیکنالوجی ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کا موضوع ’’ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت‘‘ تھا، جس کے تحت مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے استعمال میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
FIT 2025 کو 32 ممالک سے 627 تحقیقی مقالے موصول ہوئے، جو گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی کانفرنسز کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں۔ محتاط نظرثانی کے بعد 99تحقیقی مقالے منظور کیے گئے، جنہیں 11 تکنیکی شعبہ جات اور 19 سیشنز میں پیش کیا گیا۔ اس طرح کانفرنس کی قبولیت کی شرح تقریبا 15 فیصد رہی۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی ایڈیشنل سیکرٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی جناب رضوان احمد شیخ نے کانفرنس کے انعقاد پر کامسیٹس یونیورسٹی کومبارکباد دی اور FIT کو پاکستان کے معتبر ترین آئی سی ٹی فورمز میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے تحقیق، صنعت اور عوامی پالیسی کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جامعات میں ہونے والی تحقیق عملی صورت میں سٹارٹ اپس، پیٹنٹس اور سماجی و معاشی اثرات رکھنے والے حل میں تبدیل ہو سکے۔
ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے اپنے خطاب میں ماہرین پر زور دیا کہ وہ کوانٹم ٹیکنالوجیز میں تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جدت اور انقلابی تبدیلیاں لائیں۔ انہوں نے کہا کہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان کی پہلی یونیورسٹی ہوگی جو اپنے طلبہ کو انڈسٹری 5.0 کے لیے 6C ٹول کِٹ کے ذریعے تیار کرے گی۔ اس فریم ورک کے تحت ہر طالب علم کو کوڈنگ، سائبر سکیورٹی، کلائوڈ، کو-انٹیلیجنس کے ساتھ ساتھ تخلیقی اور ابلاغی مہارتوں کی عملی سمجھ بوجھ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے علم پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے اسٹارٹ اپس اور یونیورسٹی میں ہونے والے تحقیقی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔چینی سفارت خانے کے ثقافتی مشیر مسٹر چن پینگ اور ہواوے پاکستان کے وائس سی ای اواور چیف گیسٹ مس ژان ہونگیان نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔تقریب کے اختتام پر فیکلٹی آف انجینئرنگ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شاہد خٹک نے معزز مہمانوں و شرکا کا شکریہ اداکیا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر سہیل اصغر نے کانفرنس رپورٹ پیش کی۔
FIT کے پروگرام چیئر پروفیسر ڈاکٹر مجید اقبال نے مدعو مقررین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی تحقیق کے ذریعے کانفرنس کو علمی اعتبار سے دلچسپ و پراثربنایا۔ تکنیکی پروگرام چیئر پروفیسر ڈاکٹر منظور الٰہی تمیمی نے آئی ای ای ای، نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) اور کامسٹیک سیکرٹریٹ کی سرپرستی پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔اس سے قبل سر سید کیس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے چانسلر پروفیسر شعیب اے خان نے "AI to Agentic AI How to Be Future Ready "کے عنوان سے کلیدی خطاب کیاجبکہ آئرلینڈ کی السٹر یونیورسٹی سے پروفیسر کرس نوگن نے صحت کے شعبے میں AI کی بنیاد پر تیاکردہ IoTسلوشنز کے موضوع پر کلیدی خطاب کیااور کانفرنس کے موضوع کی سمت کا تعین کیا۔اس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، چین، جاپان، آئرلینڈ، فرانس، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے بھی FIT 2025 میں شرکت کی۔
سیشنز میں 6G نیٹ ورکس، سمارٹ سٹیز، AI پر مبنی صحت کے حل اور پائیدار کمپیوٹنگ جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔FIT 2025 تعلیمی اداروں اور صنعت کے مابین اشتراکِ عمل کی بہترین مثال ہے اور اس نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے فروغ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اور اہم کردارکو بھرپورطریقے سے اجاگر کیا ہے۔ کانفرنس کا اختتام بہترین تحقیقی مقالہ جات کے لئے ایوارڈز کی تقسیم کے ساتھ ہوا، جن کے ذریعے نمایاں تحقیقی خدمات کو سراہا گیا۔








