جمہوریہ کانگو کے ایک اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقاتیں کی ہیں اوردونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو وسیع اور مضبوط بنانے کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔
کانگو کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایڈمرل نوید اشرف اور ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقاتیں

مزید خبریں
راولپنڈی۔21اگست (اے پی پی):جمہوریہ کانگو کے ایک اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقاتیں کی ہیں اوردونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو وسیع اور مضبوط بنانے کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔
جمعہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق جمہوریہ کانگو کے ایک اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نےکانگو کے کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس لیفٹیننٹ جنرل بانزا مویلامبے جولز کی سربراہی میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت سے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی۔جی ایچ کیو آمد پر مہمان کو تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں معزز شخصیات نے پاکستان اور کانگو کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو وسیع اور مضبوط بنانے کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔

اس سے قبل لیفٹیننٹ جنرل بانزا مویلامبے جولز نے چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف، نشانِ امتیاز، نشانِ امتیاز (ملٹری)، تمغۂ بسالت، اور چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت سے بھی ملاقات کی۔ مہمان نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لئے پاک افواج کی پیشہ وارانہ مہارت، آپریشنل صلاحیتوں اور غیر متزلزل عزم کو سراہا۔ انہوں نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری اور مقامی سطح پر صلاحیتوں کے فروغ کے ذریعے حاصل ہونے والی نمایاں پیشرفت کا بھی اعتراف کیا۔








