پرتگال کے بین الاقوامی شہرہ آفاق فٹ بالر اور کپتان کرسٹیانو رونالڈو نے 41 سال کی عمر میں بھی عالمی کپ کے میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے فٹ بال کی تاریخ میں ایک اور اہم باب کا اضافہ کر دیا ہے۔
کرسٹیانو رونالڈو نے 41 برس کی عمر میں فٹ بال ورلڈ کپ میں ایک اور نیا باب رقم کر دیا

مزید خبریں
ہیوسٹن۔18جون (اے پی پی):پرتگال کے بین الاقوامی شہرہ آفاق فٹ بالر اور کپتان کرسٹیانو رونالڈو نے 41 سال کی عمر میں بھی عالمی کپ کے میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے فٹ بال کی تاریخ میں ایک اور اہم باب کا اضافہ کر دیا ہے۔شنہوا کے مطابق 2006 کے فیفا ورلڈ کپ میں پرتگال کے ایک بہترین نوجوان کھلاڑی کے طور پر ابھرنے کے بیس سال بعد بھی کرسٹیانو رونالڈو فٹ بال کے سب سے بڑے سٹیج پر جلوہ گر ہیں۔ 41 برس کی عمر میں بھی پرتگال کے کپتان فٹ بال کی دنیا کی سب سے زیادہ جانی پہچانی شخصیات میں سے ایک ہیں، جبکہ اب اس کھیل کی توجہ کیلین ایمباپے، وینیشیئس جونیئر اور ارلنگ ہالینڈ جیسے نوجوان کھلاڑیوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
جمہوریہ کانگو کے خلاف پرتگال کے 1-1 سے برابر رہنے والے میچ میں کرسٹیانو رونالڈو نے پورے 90 منٹ کھیلے، جہاں ان کا کھیل کچھ دھیما رہا اور چند مواقع ضائع ہونے پر ان کے چہرے پر مایوسی بھی دکھائی دی۔ تاہم ایک مشکل دن کے باوجود وہ اپنے شاندار کیریئر اور میدان میں مسلسل موجودگی کی وجہ سے ٹورنامنٹ کی مرکزی توجہ بنے رہے۔ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے ورلڈ کپ میں کھیلنا ان کے کیریئر کا عروج ہوتا ہے لیکن کرسٹیانو رونالڈو کے لیے یہ ایک ایسی کہانی کا بار بار دہرایا جانے والا باب ہے جس کا آغاز 2006 میں ہوا تھا جب ایک نوجوان پرتگالی فارورڈ نے اپنے ملک کو جرمنی میں ہونے والے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچانے میں مدد کی تھی۔
تب سے اب تک وہ کلب فٹ بال میں تقریباً ہر بڑا اعزاز حاصل کر چکے ہیں، جس میں 5یوئیفا چیمپئنز لیگ ٹائٹلز، انگلینڈ، سپین اور اٹلی میں متعدد لیگ چیمپئن شپس، اور فٹ بال کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہونا شامل ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انہوں نے یورو 2016 میں پرتگال کو اس کی پہلی بڑی ٹرافی جتوائی اور پھر دو یوئیفا نیشنز لیگ ٹائٹل بھی اپنے نام کیے۔ اب کرسٹیانو رونالڈو کے سامنے چیلنج مختلف ہے کیونکہ وہ اب وہ تیز رفتار ونگر نہیں رہے جو مانچسٹر یونائیٹڈ میں اپنے ابتدائی سالوں کے دوران دفاعی کھلاڑیوں کو پریشان کرتے تھے، اور نہ ہی وہ بے رحم گول مشین ہیں جنہوں نے ریال میڈرڈ میں اپنے عروج کے دوران یورپی فٹ بال پر راج کیا۔
عمر نے لاظمی طور پر ان کے کھیل کو بدلا ہے اور اب وہ رفتار پر اتنا انحصار نہیں کرتے جتنا پہلے کرتے تھے، بلکہ میچوں پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی پوزیشننگ اور تجربے کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا رونالڈو پرتگال کے اگلے میچوں میں بھی سٹارٹنگ الیون کا حصہ ہوں گے، کوچ رابرٹو مارٹنیز نے کہا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب ان کی عمر کے بجائے ان کی فٹنس اور حالت پر مبنی ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہر کھلاڑی کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں اور کرسٹیانو رونالڈو کو عمر کی نظر سے نہیں بلکہ اس بات سے پرکھتے ہیں کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔
کرسٹیانو رونالڈو نے جمہوریہ کانگو کے خلاف میچ کے بعد میڈیا سے بات نہیں کی، البتہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام شیئر کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو آگے آنے والے چیلنجز پر توجہ مرکوز رکھنے کی تاکید کی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ یہ وہ آغاز نہیں تھا جو ہم چاہتے تھے لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوا، سر اٹھا کر اگلے میچ پر توجہ دیں۔ یہ بیان اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس نے ان کے پورے کیریئر کو سنوارا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ کامیابی پر ختم ہو یا مایوسی پر، فٹ بال کی تاریخ میں رونالڈو کا مقام بہت پہلے ہی محفوظ ہو چکا ہے اور اب ان کا ہر نیا میچ ریکارڈ بک میں ایک اور سنگ میل کا اضافہ کر رہا ہے۔







