اسلام آباد ۔ 20دسمبر(اے پی پی) رواں مالی سال کے دوران ملک کے کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں 73 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال میں جولائی تا نومبر 2019ء کے دوران پاکستان کا حسابات جاریہ کا خسارہ 1.821 ارب ڈالر تک کم ہوگیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا نومبر 2018ء کے لئے کرنٹ اکائونٹ خسارہ 6.733 …
کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں رواں مالی سال کے دوران 73 فیصد کمی ہوئی، سٹیٹ بینک قومی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اقتصادی ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20دسمبر(اے پی پی) رواں مالی سال کے دوران ملک کے کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں 73 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال میں جولائی تا نومبر 2019ء کے دوران پاکستان کا حسابات جاریہ کا خسارہ 1.821 ارب ڈالر تک کم ہوگیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا نومبر 2018ء کے لئے کرنٹ اکائونٹ خسارہ 6.733 ارب ڈالر رہا تھا۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران حسابات جاریہ کے خسارہ میں 4.912 ارب ڈالر یعنی 73 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کے باعث خسارہ کو کم کرنے میں مدد ملی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ برآمدات کے فروغ کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کے لئے مزید اقدامات کرے تاکہ خسارہ کو ختم کیا جاسکے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خسارہ پر قابو پانے کی مسلسل کوششیں کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ اکتوبر 2019ء کے دوران خسارہ کو سرپلس میں بدلنے میں مدد ملی ہے۔ ایس بی پی کے مطابق اکتوبر 2019ء کے لئے کرنٹ اکائونٹ سرپلس 70 ملین ڈالر رہا تھا تاہم نومبر 2019ء کے دوران حسابات جاریہ کا خسارہ 319 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی تا نومبر 2019ء کے دوران گڈز’ سروسز اور انکم سیکٹر کا مجموعی خسارہ 29 فیصد کی کمی سے 12.147 ارب ڈالر تک کم ہوگیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا نومبر 2018ء کے لئے 17.199 ارب ڈالر خسارہ ریکارڈ کیا گیاتھا۔ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ حسابات جاریہ کے خسارہ میں کمی سے قومی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔








