عمان ۔12اگست (اے پی پی):اردن نے کسی ملک میں جنگ کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔ العربیہ کے مطابق اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے امریکی کانگریس کے ارکان کے وفد سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ اردن کسی ملک کے لیے میدان جنگ نہیں بنے گا اور نہ ہی اپنے عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے …
کسی ملک کے لیے میدان جنگ نہیں بنیں گے ، اردن

مزید خبریں
عمان ۔12اگست (اے پی پی):اردن نے کسی ملک میں جنگ کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔ العربیہ کے مطابق اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے امریکی کانگریس کے ارکان کے وفد سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ اردن کسی ملک کے لیے میدان جنگ نہیں بنے گا اور نہ ہی اپنے عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔عمان کے الحسینیہ پیلس میں ہونے والی اس ملاقات میں شاہ عبداللہ دوم نے خطے کی موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔اردن کے شاہی دربار کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت کے فرمانروا نے اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہاکہ خطے کو جنگ میں دھکیلنے کے امن کے لیے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔شاہ عبداللہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں جنگ جاری رہنے تک یہ خطہ اس جنگ کے پھیلاؤ کا شکار رہے گا جس سے اس کے استحکام کو خطرہ ہے۔ انہوں نے پورے خطے کو جنگ کا ایندھن بنانے سے بچنے کے لیے فوری اور مستقل جنگ بندی پر زور دیا۔اردن کے بادشاہ نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند آباد کاروں کے حملوں اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور عیسائی مقدسات کی خلاف ورزی کے خطرے سے خبردار کیا۔
انہوں نے دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے سیاسی افق تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور پورے خطے کی سلامتی کی ضمانت کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ’انروا‘ کی حمایت جاری رکھنے کی ضرورت کا مطالبہ کرتے ہوئے ایجنسی کو اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت غزہ اور خطے میں لاکھوں فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کے کاموں کو انجام دینے کے قابل بنانے میں ہرممکن مدد فراہم کی جائے۔اس موقعے پر اردن اور امریکا کے درمیان تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے امریکا کی طرف سے مملکت کو فراہم کی جانے والی مسلسل حمایت کے لیے امریکی وفد کا شکریہ ادا کیا۔








