اسلام آباد ۔ 5 فروری (اے پی پی) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے پاکستان کی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی حق خودارادیت کیلئے غیرمشروط اور غیرمتزلزل حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا، پاکستان واحد ملک ہے جو مستقل طور پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے تعاون کر رہا ہے، کشمیریوں نے دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچایا ہے کہ کشمیر کبھی بھی بھارت …
کشمیریوں نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں تھا، اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری دیرینہ تنازعہ کشمیر حل کرنے کیلئے کردار ادا کرے، مشال ملک کی پی ٹی وی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 فروری (اے پی پی) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے پاکستان کی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی حق خودارادیت کیلئے غیرمشروط اور غیرمتزلزل حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا، پاکستان واحد ملک ہے جو مستقل طور پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے تعاون کر رہا ہے، کشمیریوں نے دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچایا ہے کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں تھا، اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری دیرینہ تنازعہ کشمیر حل کرنے کیلئے کردار ادا کرے، جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امن صرف مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ہی ممکن ہے اسلئے ضروری ہے کہ یہ تنازعہ جلد از جلد حل ہو۔ بدھ کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور حریت قیادت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مشکل حالات اور آزمائش کے باوجود سفارتی، سیاسی یا اخلاقی طور پر ہر سطح پر پاکستان کی حمایت کو سراہا ہے، پاکستان کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کو بھارت پر دباو¿ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے۔ مشال ملک نے کہا کہ بھارتی فورسز نے یوم یکجہتی کے ایک دن قبل بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لئے کورڈن، سرچ آپریشنز اور گھر پر چھاپوں کے دوران درجنوں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات سے عالمی برادری کو سخت پیغام ملے گا کہ مسئلہ کشمیر جلد سے جلد حل ہونا چاہیے۔ یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا کہ پاکستان ابھی تک جیلوں میں قید تمام حریت رہنماو¿ں کی آواز بن گیا ہے۔ مشال نے کہا کہ کشمیریوں نے دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچایا ہے کہ کشمیر کبھی بھی ہندوستان کا اٹوٹ انگ نہیں تھا، سات دہائیاں گزرنے کے باوجود تنازعہ کشمیر کا حل نہ ہونا افسوس ناک ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری دیرینہ تنازعہ ختم کرنے کیلئے مثبت کردار ادا کرے۔








