اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کچھی نے کشمیر کاز سے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک سنگین انسانی اور بین الاقوامی مسئلہ ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا جبکہ نوجوان نسل کی جانب سے کشمیر کے بیانیے کو اجاگر کرنے کے جذبے اور عزم کو سراہا۔وہ بدھ کو پاکستان اکیڈمی آف …
کشمیریوں کا مقدمہ سنگین انسانی اور عالمی مسئلہ ہے، نوجوان نسل بیانیہ زندہ رکھے،اورنگزیب خان کچھی

مزید خبریں
اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کچھی نے کشمیر کاز سے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک سنگین انسانی اور بین الاقوامی مسئلہ ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا جبکہ نوجوان نسل کی جانب سے کشمیر کے بیانیے کو اجاگر کرنے کے جذبے اور عزم کو سراہا۔وہ بدھ کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (پی اے ایل) کے زیر اہتمام قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے تعاون سے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقدہ خصوصی فکری و ادبی تقریب بعنوان ’’دی کشمیر کیس: نوجوان نسل کی آواز میں‘‘سے خطاب کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تقریب مسئلہ کشمیر پر پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی مؤثر ادبی و فکری کاوشوں کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز بالخصوص اقوام متحدہ میں بھرپور انداز میں اجاگر کرتی رہے گی۔تقریب پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس کی صدارت آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سابق سفیر سردار مسعود خان نے کی۔ وفاقی وزیر اور چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون، کشمیری رہنما و سکالر ڈاکٹر سمیع اللہ ملک اور سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد پنجاب گروپ آف کالجز کے طالب علم حسن احمد نے تلاوتِ کلامِ پاک کی جبکہ جبران حیدر نے حضور اکرم ؐ کی بارگاہ میں نعت پیش کی۔سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی ثقافتی ذمہ داری کا حصہ ہے اور اس بیانیے کو زندہ رکھنے کے لئے مستقل فکری اور ثقافتی کاوشوں کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سمیع اللہ ملک نے مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور اس کی بین الاقوامی حیثیت پر روشنی ڈالی اور کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تنقیدی سوچ، شعور اور فکری وابستگی کو فروغ دیں تاکہ مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔وفاقی وزیر اور چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شناخت کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے کشمیر اور فلسطین کی صورتحال میں مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں خطوں نے طویل عرصے سے مظالم اور قربانیاں برداشت کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ نسلوں کو کشمیری جدوجہد سے آگاہ کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو قومی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔
اپنے صدارتی خطاب میں سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیری عوام کی طویل جدوجہد تاریخ کا لازمی حصہ بن چکی ہے اور پاکستان کو اب اس مسئلے کو نئی قوت اور عزم کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع حاصل ہے۔چیئرپرسن پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر پر اپنے خیالات کے اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے کیونکہ کشمیر کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو صرف سیاسی بیانیے تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اسے فکری، ادبی اور ثقافتی سطح پر بھی زندہ رکھا جانا ضروری ہے۔انہوں نے ادب کو قومی شعور اجاگر کرنے، تاریخ محفوظ کرنے اور عالمی مکالمے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پنجاب گروپ آف کالجز کے طلبہ کی بھرپور شرکت کو سراہا اور انتظامیہ و اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایچ نائن کے طلبہ کی جانب سے پیش کئے گئے سٹیج ڈرامے "دی کشمیر کیس” کو بھی سراہا جس میں کشمیری عوام کے دکھ، تکالیف اور جدوجہد کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر شریک طلبہ میں پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی مطبوعات بطور تحفہ تقسیم کی گئیں۔








